Wednesday, November 24, 2021
چپورسن روڈ پر اک نظر تحریر: ( عباس علی نور)
چپورسن روڈ پر اک نظر
تحریر: ( عباس علی نور)
Email. chipursangojal@gamil.com
وادی چپورسن میں پشتنی باشندگان کی تاریخ 9 سو سال پرُانی ہے تاہم ہنزہ میں میری نظام کی تسلط سے نجات حاصل کرنے کے بعد بالخصوص اس وادی میں بننے والے روڈ کا مختصر جائزہ پیش کرنے کی کو شش کیجاتی ہے ۔
چپورسن روڈ کی تعمیر کا مقصدعوام چپورسن کی مسائل اور وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ بات واضح ہے کہ اس روڈ کی تعمیر ملکی دفاع کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کچی سڑک کی تعمیر ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ اس روڈ کو دفاعی روڈ بھی کہا جاتا ہے۔
اس روڈ کی تعمیر کا آغاز سن 1778ء میں ہوئی اور چار سال کی مسلسل محنت و لگن سےسن 1982ء میں چپورسن روڈ کا کام مکمل ہوا جو کہ سوست سے باباغندی زیارت تک تقریباً 72 کلومیڑ پر محیط ہے ۔
دفاعی روڈ بننے سے قبل یہاں کے جفاکش لوگ سوست کی جانب پیدل سفر کرنے جبکہ چند گھنٹوں کی مسافت کئی دنوں میں طے کرنے پر مجبور تھے ۔تب سے روڈ اُن کا خواب تھا اور یقناً آج بھی روڈ ان کا خواب ہے۔
ان چالیس سالوں میں کئی حکومتیں اقدار پہ آئے اور چلے گئے جبکہ اس روڈ کے نام پر کروڑوں روپے اپنے سالانہ ترقیاتی بجٹ پروگرامز میں مختص کئے گئے ۔بے شمار اعلانات اور نہ روکنے والے وعدوں سے ان عوام کے ہاتھوں پر چھالیاں پڑتے گئے اور تعجب کی بات یہ تھی کہ سرکاری طور پر سوست تا گاوں کرمن میں ٹرک ایبل روڈ کی تکمیل ہونے کی دستاویزات بھی منظر عام پر آگئی تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس روڈ کو زمین کھا گئی یا آسمان نے نگل لی ۔
دوسری طرف سن 2015 میں یرزریچ کے نیشبی علاقہ سے تقریبا 3 کلومیٹر پر مشتمل روڈ کے پراجیکٹس پر بڑی لاگت سے کام کا آغاذ کیا گیا تاہم جس کی تکمیل بھی بروقت ممکن نہیں ہوا ۔ جس کی تکمیل کے لئےہزاروں دفعہ علاقہ کے مکین سر گرم رہے تاہم کوئی خیرخواہ ترقی ممکن نہیں ہوئی اور بڑی مشکل سے سن 2020 ء میں اس کی تکمیل ہونے کا خبر سن کر ڈسٹرکٹ کمشنر ہنزہ دیگر دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری آفیسران سمیت روڈ کی پرجوش افتتاحی تقریب کے لئے پہنچ گئے ۔ تاہم بد قسمتی سے ان کے پہنچنے سے قبل ہی بنائے گئے ار سی سی پُل گھیر کرمکمل طور پر تباہ ہوچکے تھےاور بہت سے کام ادھورے تھے ۔اتفاق کی بات یہ تھی کہ روڈ کی ٹھیکیدار بھی ان کے ٹیم کے ہمراہ موجود تھے ۔روڈ کی حالات کا جائزہ لینے کے بعد ایک بار پھر سابقہ ڈسٹرکٹ کمشنر ہنزہ نے عوام چپورسن کے سامنے کھولم کچری میں ٹھیکیدار کو دوبارہ ار سی سی پل کی تعمیر کو معیاری طریقے سے تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ اسی موقع پر روڈ کے اصلی ٹھیکیدار عوام سے منتخب ہوتے ہوئے کہا کہ اس کی ٹھیکیداری لینے کے بعد اس کی تکمیل کے لئے اس نے جس کی ذمہ کسی دوسرے ٹھیکیدار کو دیا تھا جبکہ انہوں نے کسی تیسرے کو ٹھیکیدار کو اور تیسرے نے کسی چوتھے ٹھیکیدار کو دیا ہے۔ انہوں مذید کہا کہ مجھے یہ خبر کئی سالوں بعد ملا جس کی وجہ سے مجھے دوبارہ آنا پڑا ۔ انہوں نے روڈ کو اپریل 2021ء تک مکمل کرکے عوام کو حوالہ کرنے کا اعلان کیا لیکن یہ پراجیکٹیس بھی اگرچہ وقت پر تکمیل نہیں ہوا پھر بھی عوام کے لئے اسے کھول دیا گیا ہے تاہم اب تک یرزریچ کی نشیبی علاقہ میں مختلف مقامات میں کلوٹیں بنانے کا کام باقی ہے اور ساتھ ہی یرزریچ سے تعلق رکھنے والے زمینی مالکان بھی تاحال اپنے زمینی معاوضے لینے سے محروم ہیں ۔
یاد رہے کہ یہاں کے مقامی لوگوں نے اپنے مدد آپ کے تحت گیارہ نالوں میں لکڑی پُل تعمیر کرکے عوامی سہولیات میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ سرکاری طور پر رشت نالے میں طویل مددت میں بننے والے صرف ایک لکڑی پل بھی یہاں کے عوام کے لئے وفا نہ کرسکا۔
اس روڈ سے متعلق المیہ یہ بھی ہے کہ 72 کلومیٹر پر محیط سوست تا بابا غندی تک صرف 10 قلیاں کام کر رہے ہیں جبکہ سرکاری ریکارڈ میں کل 35 قلیاں اس روڈ پر تعینات ہیں۔ جن کی بھی بہتر طور پر سرپرستی نہیں کیجاتی ہے ۔
مذید برآں چالیس سال کی طویل مدت بعد نئی پاکستان کے نام نئی حکومت نے سر اٹھایا ۔وفاق میں نئی حکومت کے اثرات یقنیاً گلگت بلتستان پر اثر انداز ہوئی تاہم اس نئی حکومت کی افعال و کردار اس وادی میں نظر نہیں آرہے ہیں۔
پھر بھی نئی حکومت کی جانب سے چپورسن میٹل روڈ کو حکومت گلگت بلتسنتان کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں شامل کر کے اس روڈ کے نام پر کُل 12کروڈ روپے مختص کی گئی ہے جبکہ باضابطہ طور پر اس رقم کی وصولی ڈپارٹمنٹ آف پاور اینڈ ڈویلمنٹ نے 29 ستمبر 2021 کو کی گئی ہے ۔ تاہم اس وادی میں بسنے والے لوگوں میں یہ تشویش ضرورہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی یہی رقم خُردبُرد ہو جائے گے یا اسی رقم کو بھی کسی قدرتی آفات میں لوگوں میں بطور عطیہ دینے کی جھوٹے داستانیں بناکر کرپشن کے نذر کرینگے۔
باالفاظ دیگرالیکشن 2020ء میں بننے والے نو روڈ نو ووٹ کے کیپمین میں بننے والے گرانٹ ایکشن کمیٹی برائے چپورسن پرجوش ہے کہ کام نہیں کرنے والوں کو سپریم کورٹ تک کھڑے کرکے دم لینگے ۔ گویا معززاپلیٹ کورٹ کی جانب سے لئے گئے از خود نوٹس میں مختلف سرکاری شعبہ جات کو جاری ہونے والے آڈرزبالخصوص اس وادی کے حوالےسے موجود ہے۔ ساتھ ہی ساتھ چپورسن روڈ سے متعلق الیکشن میں عوام چپورسن سے کئے گئے معاہدہ پرسیاسی نمائندگان کی جانب سے کئے گئے دستخط بھی تحریری صورت میں موجود ہے اور وفاق کے اسمبلی میں بیٹھے ہوئے نمائندگان بھی اس روڈ سے بہتر طورپر واقیف ہیں ۔
بہرحال جب تک حکومت کی جانب سے روڈ پر کام کا آغا ذ نہیں ہوگا۔ بلاشبہ یہاں کی عوام کی جانب اس نئی حکومت کے نمائندگان پر بھی اعتماد کا دروازہ بند رہے گا اور بظاہر جو کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتا ہے۔
چنانچہ اپنے حق سے محروم اورروڈ جیسے سنگین مسائل سے دوچار عوام کے مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔گویا روڈ آج کے اس تیز رفتار دور کا ایک اہم ضرورت ہے ۔ جس کے بغیرکسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment