Saturday, June 26, 2021

#NoRoadNoVote #WeFailedToConvice by Qurban rahim

The people of Chipursan failed to convince the civil bureaucracy and politicians to address genuine problems they have been facing. The priorities of the ruling government PTI is not aligned with the problem of common people. The current government is more interested to promote adventure tourism and have allocated 500 million. The people of far flung areas are traveling on adventurous roads risking their lives in hard climate conditions. It seems the ruling party is not familiar with the core issues of Hunza. Central Hunza is facing shortage of drinking water and power issues, people have to rely on NGOs and self help projects. Chipursan and Shimshal are facing road access, internet, power issues, but the intensions of government seems opposite. It is the responsibly of the elected member to address the genuine issues with the high ups. The youth of Chipursan unanimously raised these problems in all forum, with all parties and departments before the election 2020, but failed to realize the government. The federal ministers and advisor to PM assured the fund for the Chipursan road will be allocated from Federal Budget, the Chairman of opposition party in National Assembly promised to resolve this issue. Advisors to Chief Minister and the elected member from Hunza, kindly advise the Chief Minister that this 500 million is not going to make any difference. People are living adventurous life, if you are interested in adventurism you must visit them. Chipursan Valley - Gojal Hunza Passu Times Chipurson Tv Ali Taj Gilgit Baltistan Today گلگت بلتستان ٹوڈے

llied Foundation will provide financial support to the completion of the building under construction of Central Asia Institute in Chupursan Valley

Good news (Report: Abbas Ali Noor) A
, Sponge Valley. For this reason, the public is very much at the consent of Chapursan as well as the people of Chaperson. Construction work will start soon. Major Ejaz Program Manjir said in negotiating with public Chapursan that the organization is trying to decorate children with jewelry education in far away areas while it is necessary to make youth skilled along with education. In this way, youth will also be in the future. Will try to teach technical education. In the modern era, affirmation technology is our important need. So the public will try to provide necessary equipment regarding the fields relevant to Chupurson. He also said that no institution can work without the permission of the people of Chaporsan, so as to public needs. Under the institution will be authorized to work. In this way, the official education committee has been established. Who will fulfill their responsibility while keeping the educational needs in the area. On this occasion, CEO Central Asia Institute Gilgit Syedullah Baig was also present. via Haider Badakhshani https://www.facebook.com/chipursontv/photos/a.512960156185216/954231115391449/

چیپورسن کے عوام خاموش کیوں #noroadnovote2020 تحریر--عالیہ علی

چیپورسن کے عوام خاموش کیوں.... بھری بزم میں راز کی بات کہ دی بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں (علامہ اقبال) تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا, جب چیپورسن کے عوام میں اچانک جوش و جذبہ پیدا ہوا اور انھوں نے ملکر طے کر لیا کہ انکے علاقے اور عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہمیشہ الیکشن کے دنوں میں آکر عوام سے ووٹ حاصل کرکے بعد میں رفو چکر ہونے والے نمائندوں کے خلا ف اٹھ کھڑے ہونگے. کیونکہ برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے چیپورسن کے عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ بٹور لیتے تھے اور الیکشن کے بعد اس علاقے کے عوام کے وعدوں کو پورا کرنا تو دور کی بات اس طرف پلٹ کر دیکھتے تک نہیں تھے برسوں سے یہ سلسلہ بدستور جاری رہی اور اس لئے الیکشن 2020 میں چیپورسن کے عوام نے الیکشن بائیکاٹ کیا. لیکن پھر وفاقی حکومت کا جھانسہ دے کر اور بہلا پھسلا کر اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ چیپورسن روڈ کو ترجیحات کی بنیاد پر بنایا جائے گا جبکہ دوسرے مسائل پر بھی کام کرینگے . لیکن الیکشن ہوئے ابھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور عوام اپنے منتخب کردہ نمائندےکی شکل تک بھول گئے ہیں. ان وعدوں کا دور دور تک کوئی خبر نہیں خاص کر کے چیپورسن روڑ کا. اور مزے کی بات یہ ہے کہ عوام کا وہ جذبہ بھی وقتی تھا.مگر حقیقت یہ ہے کہ جبتک چیپورسن کے عوام یکجا ہو کر اپنے حقوق کیلئے جدوجہد نہیں کرینگے انکے ساتھ اسطرح کے خوبصورت مذاق ہوتے رہینگۓ. چیپورسن کے عوام پھر سے خاموش کیوں ہیں جاگو اب تو جاگو.. #noroadnovote2020 تحریر--

Thursday, June 24, 2021

معلم کرونا تحریر: سناور خان صابر

معلم کرونا تحریر: سناور خان صابر اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہزہا ئنیس پرنس کریم آغا خان نے شمالی علاقہ جات کے اسماعیلی جماعت کو پہلے ہی یہ فرمان فرمایا تھا کہ اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد واپس شمالی علاقہ جات یعنی اپنے آبائی علاقوں کی طرف جائیں اور اپنی قوم وجماعت کی خدمت کریں۔ لیکن جماعت نے امام علیہ سلام کی فرامین پر عمل نہیں کیا اور اپنے علاقوں کو چھوڑ کر شہروں کی طرف جاکر آباد ہونے کو ترجیح دیا اور اپنے بزرگوں کی آبادکردہ علاقوں کو ویران کرنا شروع کر دیا جو کہ کسی بھی طرح احسن اقدام تصور نہیں کیا جاتا۔ اب جب قدرت کی طرف سے کرونا کی شکل میں ایک وائرس جو انسانی جانوں کے لئے پر خطر ہے ہمیں ایک امتحان سے دوچار کیا ہے اور ہم ایک کھٹن دور سے گزر رہے ہیں۔ یہ وائرس ایک آفت بھی ہے اور سے ہمیں سبق بھی ملتا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے ہمارے پڑھے لکھے بہن بھائی جو آبائی علاقوں کو چھوڑ کرشہروں کا رخ کر چکے تھے و ہ واپس اپنے علاقوں میں آنے لگے اور واپس آکر اپنے قوم و جماعت کی خدمت کرنے لگے ہیں۔ اباواجداد کی زمینیں جو بنجر ہوگئے تھے اب آباد ہونے لگے ہیں اور مختلف فصلیں اگا کر فائدہ حاصل کرنا شروع کیا ہے۔ لوگ شہروں میں جا کر آرام طلب ہوگئے تھے اور محنت سے کترانے لگے تھے لیکن اس وبا نے ہمیں درس دیا کہ ترقی و خوشحالی کے لئے محنت شرط ہے۔ ہمارے نوجوان اس جدید دنیا میں بہت آگے نکل گئے ہیں لیکن اپنے ثقافت، تہذیب و تمدن سے ناآشنا ہوتے جا رہے ہیں اور فضول خرچی و دیگر غیر اخلاقی عادتوں میں ملوث ہونے لگے ہیں جو کہ والدین کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ ہے ہمارے معاشرے کی موجودہ صورتحال۔ ہمارے والدین نے جس تنگ دستی میں محنت کرکے دن رات ایک کیا ہے، علاقوں کو آباد کیے ہیں، زراعت او رمال مویشی کے تمام امور کو احسن طریقوں سے نبھایا ہے اس کی مچال نہیں ملتی۔ لیکن آج کے نوجوان نسل پڑھائی کے نام پر اپنے والدین کو دھوکہ دے رہے ہیں، معیاری تعلیم تو دور کی بات ہے، رسمی تعلیم بھی حاصل نہیں کرتے۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ہمارے نوجوان غیر ضروری کاموں و عادتوں میں ڈوب رہے ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کرنے کے بجائے قوم اور خاندان کے لئے بد نامی کے باعث بن رہے ہیں۔ ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں، ہمارا مستقبل کیا ہوگا کسی کو نہیں معلوم، تعلیمی ادارے و عبادت گاہیں بند ہیں او ریہ سلسلہ کب تک چلے گا نہیں معلوم۔ ہمیں چاہئیں کہ اپنے زمینوں کو آباد کریں، مختلف فصلیں اگائیں او رمتبادل آمد ن کے ذرائع تلاش کریں تاکہ مستقبل میں کسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ ہو۔ منشیات سے دوری اختیار کریں، بری عادتوں سے چھٹکارہ حاصل کرکے عبادت وبندگی کے سنہرے اصولوں کی اپنائیں۔ خداوند کریم کی مہربانی اور سائنس دانوں کی محنت کی بدولت کرونا وائرس سے بچاو کے ویکسین تیار کیا گیا ہے اورقوی امید ہے کہ بنی نوع انسان کی اس خطرناک بیماری سے چھٹکارا حاصل ہوگا اور امید کی فضا قائم ہوگی لیکن احتیاطی تدابیر پر عمل کرناانتہائی اہم ہے۔ جو نہ صرف خود اور اپنے خاندان کی حفاظت کرنا ہے بلکہ اس سے انسانی خدمت و حفاظت کا فریضہ بھی ادا ہوگا۔ حکومت وقت اور فلاحی ادارے مختلف طریقوں سے آگاہی و احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے پر زور دے رہے ہیں اور یہ سب کاوشوں کی وجہ انسان کو اس خطرنات بیماری سے بچا نا ہے۔ ہمارا فرض ہے ہ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔