Friday, November 14, 2025
یاسمین: مسکراہٹوں کا سورج غروب ہو گیا
بیٹی ملکہ یاسمین اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
زندگی خوبصورت اور حسین ہے، مگر یہ خوبصورتی صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو اسے پوری شیدت اور جوش سے جیتے ہیں۔ جینے کا اصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس انمول نعمت کو ہر پل، ہر لمحہ ایسا گزارا جائے کہ یہ بوجھ یا دکھ کا انبار نہ بنے، بلکہ خدا کی بے پایاں رحمتوں اور نعمتوں کا چشمہِ زلال لگے۔ اسے اس کی پوری لطافت، کیف اور حسن کے ساتھ جئیں، تاکہ دیکھنے والے آپ کی زندگی پر رشک کریں، افسوس کا اظہار نہ کریں۔
ایسی ہی ایک مسحور کن کہانی تھی میری بیٹی یاسمین کی۔ جب وہ گاؤں غلکن سے شادی ہو کر گاؤں شہر سبز چپورسن آئی، تو میں نے ہمیشہ اسے ہنستی، مسکراتی ہوئی دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہر دم ایک پُر نور، پُر کیف تبسم سجا رہتا، گویا یہ مسکراہٹ اس کی زندگی کو بھرپور جینے اور ہر کل کو خوبصورت بنانے کا زندہ ثبوت تھی۔ یاسمین نے جیسے ہی گاؤں شہر سبز میں بیاہ ہوگئی، اس نے ایک فعال گرلز گائیڈ اور مخلص والنٹیئر کے طور پر امام علیہ السلام کے گھر اور جماعت کی خدمات میں دل و جان سے حصہ لی۔ کونسل کے گاؤں سطح کے مختلف پورٹ فولیوز میں اس نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور لگن سے کام کیا، اور گاؤں کی ایک مثالی رکن کے طور پر ہمیشہ سرفہرست رہی۔ لیڈیز شاپ، خواتین کی تنظیم، وکیشنل سنٹر اور دیگر سماجی کاموں میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی، ہر جگہ اپنی فعالیت اور محبت کی چھاپ چھوڑتی رہی۔ بطور بہو، وہ گھر میں بیٹی کی مانند تھی؛ ساس سسر اور خاندان کے تمام افراد کی خدمت میں کبھی کوئی کسر نہ چھوڑی، ہر لمحہ خلوص اور محبت سے بھری رہی۔ اس کا ہر عمل، ہر رویہ، لوگوں سے برتاؤ آج بھی ہر زبان پر نقش ہے – ایک ایسی مثال جو دل موہ لیتی ہے۔
مگر اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ زندگی بہت ہی مختصر رہ گئی۔ کینسر جیسے ظالم اور دردناک مرض سے لڑتے لڑتے، اس نے آخر کار زندگی کی بازی ہار دی۔ اس کی بہادری بھری جدوجہد ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہر لمحہ کی قدر کرو، خدمت اور مسکراہٹ کو زندگی کا لازمی حصہ بناؤ، اور ہر سانس کو اللہ کی رضا کے لیے وقف رکھو۔ یاسمین کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی – ایک ایسی پاکباز روح جو دوسروں کی خوشیوں میں اپنی سعادت تلاش کرتی تھی، ایک ایسی روشنی جو اب بھی ہمارے دلوں کو منور کرتی ہے۔ مسکراہٹوں کا وہ سورج اب غروب ہو گیا، مگر اس کی کرنیں ہمیشہ چمکتی رہیں گی۔
آج شہر سبز کی ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل غم سے نڈھال اور خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہم نے آج اپنی پیاری بیٹی یاسمین کو بہت مختصر عمر میں کھو دیا – ایک ایسی بیٹی جو ہر دل عزیز تھی، گاؤں کے ہر فرد بڑے چھوٹے سب کی عزت و احترام کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اس کی مغفرت فرمائے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل بخشے۔ آمین🤲۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment