Friday, April 29, 2022
وادئ_چپرسن_اورباباغندی ( محمد انور سندھو)
#وادئ_چپرسن_اورباباغندی ( محمد انور سندھو)
چپرسن ایک خوش منظر وادی ہے جو شاہراہ ء قراقرم پر “سوست” کے مقام سے لے کر مغرب میں 5185 میٹر بلند چیلنجی درے کے پن دھارے (واٹر شیڈ) تک پھیلی ہوئی ہے ،جس کے پار افغانستان کا علاقہ واخان ہے۔ اس کا راستہ سست سے ہی جاتا ہے، جیپ ٹریک ہے مگر مقامی طور پر چھوٹی وین وغیرہ بھی جاتی ہے۔ یہ وادی نقرئی ندیوں سے سیراب ہوتی ہے۔ چار سو سال قبل ایک گلیشئر پگھلا تو اس کی زرخیز مٹی نے یہاں کی زمین کو شاداب کیا۔ چپرسن کے باغات اور مزروعہ زمینیں پیداوار میں بے مثل ہیں۔ یہاں آباد کرغیز النسل لوگ “واخی” زبان بولتے ہیں جس کا ماخذ قدیم فارسی زبان ہے۔ یہ لوگ اپنی جفا کشی اور زندہ دلی سے جانے جاتے ہیں۔ بہت کم پاکستانی گوجال (ہنزہ کا بالائی حصہ) کے دور افتادہ علاقے میں واقع اس جنتِ صغریٰ سے واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن چند لوگ اس وادی کو ایک ایسے شخص کے وطن کے طور پر بلا توقف پہچان لیں گے جو تن تنہا ملک کا نام روشن کرنے میں ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔ یہ وادی نذیر صابر جیسے جوانِ رعنا کا دیس ہے ۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ملک کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا ہے بلکہ انہیں ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے پاکستانی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
وادی کے وسطی حصے میں ایک داستان مشہور ہے جو یہاں کے تمام دیہاتوں میں مقبول ہے۔ یہ “غُنڈ” کے پیر مرد “بابا غُنڈی” کی داستان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ “غنڈ” واخان کے پار کا ایک چھوٹا سا دیہات ہے۔ بر بنائے روایت، برس دن کی بات ہے کہ بابا غُنڈی دورانِ سفر میں اس وادی سے گزرے۔
جان فزا نظاروں سے معمور، چپرسن وادی فردوس بر روئے زمین معلوم ہوتی ہے۔ بہت دن کی بات ہے کہ اس وادی کو ایک خوفناک آفت کا سامنا تھا۔ ایک آدم خور اژدہا وادی کی ایک جھیل میں آ بسا جو روزانہ انسانی بھینٹ لیا کرتا تھا۔ کئی لوگوں کی جان گئی۔ روز کسی قستن کے مارے شخص کو اس وحشتناک عفریت کی خوراک کے لیے جھیل کنارے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایک روز ایک کمسن حسینہ کی بھینٹ طے تھی۔ وہ جھیل کنارے بیٹھی عفریت کا لقمہ بننے کے خوف سے زار زار رو رہی تھی۔ اسی اثناء میں بابا غنڈی کا وہاں سے گزر ہوا اور انہوں نے لڑکی سے رونے کی وجہ پوچھی۔
اس کی داستان سن چکے تو بابا نے لڑکی سے کہا “وہ بخوشی اپنے گھر جا سکتی ہے کیونکہ اژدہا اپنی زندگی کے آخری لقمے لے چکا ہے” لڑکی چلی گئی تو بابا جھیل کنارے بیٹھ کر اژدہے کا انتظار کرنے لگے ۔ اور جونہی وہ نمودار ہوا۔ اسے اپنی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس کارنامے کو بابا کی روحانی طاقتوں پر محمول کیا گیا کیوں کہ ایسا معرکہ یہاں کے بڑے بڑے سورماؤں کے بس کی بات نہ تھی۔
لوگ بے حد مسرور تھے اور انہوں نے بابا غنڈی سے پوچھا کہ وہ ان کی کیا خدمت کر سکتے ہیں۔ بابا نے کہا کچھ بھی نہیں- مگر جب کبھی انہیں کسی آفت کا سامنا ہو تو ان کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ اور ایسے میں وہ مدد کو ضرور پہنچیں گے۔ اور پھر وہ پہاڑوں کی طرف لوٹ گئے۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ بابا کی فیض رسانی کی داستانیں بھلا دی گئیں۔ اور لوگ شبہ کرنے لگے کہ وہ شاید ہی کبھی واپس آئیں۔ فقط ان کے ایفائے عہد کو جانچنے کے لیے اہلِ علاقہ نے ایک دن اُن کو طلب کر لیا۔ حسبِ وعدہ بابا تشریف تو لے آئے مگر اہلِ علاقہ کی ناشائستگی پر آزردہ خاطر ہوئے اور واپس جانے سے پہلے انہیں شدید سرزنش کی۔
چپرسن کے لوگوں نے اسے ایک دل لگی سمجھ لیا۔ وہ انہیں بار بار بلاتے۔ اور جب وہ تشریف لاتے تو ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا۔ جب ان پر پتھر اور گوبر پھینکنے تک نوبت جا پہنچی تو ان کا پیمانہ ء صبر لبریز ہو گیا۔ چند سال پہلے جن لوگوں کی مدد کی تھی اب انہی کے عتاب کا سامنا تھا۔ اسی اثناء میں ایک بوڑھی عورت ( واخی زبان میں “کامپیر” ) ان کی مدد کو آئی۔ رحم دل خاتون انہیں اپنے گھر لے آئی۔ ان پر سے گندگی صاف کی اور انہیں بکری کا دودھ پلایا۔
“جب بالآخر وہ آپے میں آئے تو انہوں نے خاتون کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی صورت اپنے گھر سے باہر نہ نکلے۔ کیونکہ وہ، “چپرسن” کے گناہ گار لوگوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے کیچڑ اور پتھر کا سیلاب لانے والے ہیں۔ فقط خاتون کو اس کی رحمدلی کے باعث بخش دیا گیا ہے” بابا تو واپس چلے گئے مگر اس کے تھوڑی ہی دیر بعد وادی، پتھر اور کیچڑ کے ایک تلاطم خیز سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی۔ جس نے کھیت کھلیان، گھر، باغات سب کچھ تباہ کر دیا۔ فقط “دیارِ کمپیر” (بوڑھی عورت کے گھر) کو کوئی گزند نہ پہنچی۔ آج تک ایک سپاٹ اور لمبی چٹان کو بوڑھی عورت کے گھر کا موقع سمجھا جاتا ہے۔
مذکورہ سیلاب کو امرِ واقعہ ثابت کرنے کے لیے چپرسن کے خوش خصال لوگ آج بھی نہایت سنجیدگی سے اُن پتھریلی اور ریتلی کونز کی دلیل دیتے ہیں جو وادی کے وسطی اور بالائی حصے میں جا بجا بکھری پڑی ہیں۔ اور لوگ انہیں بابا غُنڈی کے سیلاب کی باقیات قرار دیتے ہیں۔ چند لوگ تو ان کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل پتھروں کو اژدھے کی ہڈیوں کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔ گلمت (وادئ ہنزہ) کے ایک ہوٹل مالک نے انتہائی فخر کے ساتھ ان پتھروں کو اژدھے کی ہڈیوں کے طور پر سجا رکھا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے اپنے ہوٹل کا نام مشہور سیاح مارکوپولو کے نام پر رکھا ہے اور لوگوں کو بتاتا ہے کہ مارکوپولو ایک انگریز تھا جو سن 1860 کے لگ بھگ “گُلمت” سے گزرا تھا۔
بابا غُنڈی کا مزار وادی کے انتہائی مغربی سرے پر واقع ہے۔ سرمئی چٹان تلے واقع، سفید رنگ روغن میں ڈھکی، یہ قبہ دار سنگی عمارت بجائے خود اِک مرقع حسن ہے۔ خصوصاً جب عرس کے دنوں میں رنگ برنگے جھنڈوں سے آراستہ ہوتی ہے تو اس کی آب و تاب قابلِ دید ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کی زندگی میں اہل چپرسن نے ان سے درشت رویہ اپنائے رکھا مگر چپرسن کے خوش طبع لوگ اب انہیں اپنا مرشد و مربی مانتے ہیں۔
ہم نہیں جانتے کہ وہ کون تھے، چپرسن میں ان کی آمد کب ہوئی اور یہاں ان کی وفات کیسے ہوئی۔ مگر یہاں وادی میں ایک چھوٹا ذیلی گلیشئر “قلندر گُم” کے نام سے معروف ہے۔ یعنی “کھویا ہوا درویش” ۔ ممکن ہے کوئی بدقسمت درویش اثنائے ہرزہ خرامی چپرسن آیا ہو۔ جہاں شاید اس سے ہتک آمیز سلوک کیا گیا ہو۔ آتے ہوئے غالباً وہ آسان راستے سے آئے ہوں مگر واپسی پر شاید کسی مشکل راستہ اپنانے کی سوجھی ہو جس کا کچھ حصہ گلیشیر نوردی پر محیط ہو۔
ممکن ہے کہ ان کا خاتمہ شدید سردی میں ٹھٹھر کر یا کسی برفانی دراڑ میں گرکر ہوا ہو۔ اور اہلیانِ چپرسن کفن دفن کے لیے اُن کی لاش وہاں سے نکال لائے ہوں۔ اس کے برعکس دوسرا خیال یہ ہے کہ وہ یہ راستہ کامیابی سے پار کر گئے ہوں ( گو اس کا امکان بہت کم ہے)۔ اور پھر کبھی واپس نہ لوٹے ہوں۔ یوں اہلِ چپرسن کو گمان گزرا ہو کہ وہ شاید گلیشیر پر کہیں کھو گئے ہیں۔ اور یہی خیال گلیشیر اور مزار کی وجہ تسمیہ ہو۔
حقیقتاً اژدھے اور سیلاب کا قصہ سادہ لوح لوگوں کے لیے چند ایسے مظاہر کی توجیہہ بیان کرنے کے لیے تراشا گیا جو ان کی فہم سے بالا تر ہیں۔ جیسا کہ یہاں موجود ریت، پتھر اور سنگریزوں کے ڈھیر۔ یہ سب ایک گلیشئر کا ملبہ ہے جو قریب سترھویں صدی یا شاید اس سے تھوڑا بعد سِرک کر ساری وادی میں اُتر آیا تھا۔ کوئی بھی دانش مند اور تجربہ کار کوہ نورد یہ جانتا ہے کہ جب بھی کوئی گلیشیر پگھلتا ہے تو اپنے پیچھے ملبے کا اِک انبار چھوڑتا ہے جس پر سیلاب کی باقیات کا گماں ہوتا ہے۔ غالب گمان ہے کہ چپرسن میں بھی ہوبہو یہی واقعہ پیش آیا۔
میں دو بار یہاں جا چکا ہوں ، دو تین ہوٹل بھی اب بن چکے ہیں ، لوگ بہت اچھے ہیں، آپ کو زندگی میں ایک بار وزٹ کرنا چاہیئے۔
محمد انور سندھو۔ 03332907799
Friday, April 8, 2022
Suicide trend lose human capital in Gojal- Hunza
Suicide trend lose human capital in Gojal- Hunza
By Muhammad Panah.
Hunza is considered an educated and moderate society in entire Gilgit-Baltistan; but factually it is still an absolute male dominant society just like other parts of Pakistan and the third world. The male dominating culture has been running for centuries in the entire region of Gilgit-Baltistan and women were pondered as an inferior segment of the society. The local conventions and tradition reflect that women were a symbol of keeping good relationships with other families and tribes through Islamic ways of marriage without taking their consent; they were not allowed to go out of home without the permission of their males. These were societal injustice, oppressing, and discriminative attitudes toward women, for that reason women were compelled to do suicide; they were jumped from high hills/rocks and threw themselves in the rivers, and consumed poisons. However, with time, gender discriminative approaches have begun to change to some extent from the area guidance of faith-based institutions, educational institutions, and other national and international development organizations' intervention. The suicidal cases were resolved by the former Hunza state court (Jirga) under the supervision of King/ Mir/ Theam/ with the consultation of his former state’s titleholders, “Wazir, Thrangpa, Woyam and Arbob”. It was the quickest decision platform for the public; there might be many loopholes in the decision but my favor goes to the quick decisions.
In the meantime women, the suicide ratio is to some extent reduced in the region but unfortunately, the male youth suicide ratio is increasing drastically. Every year well educated, social activities and leaderships are committing suicide.
It is a catastrophic fact that in three years 2014-2022, two females and ten male youths have suicide in a less populated region. Due to this chronic situation, parents are involved in mental trauma. The consistent losing precious lives in the region threatening while not identifying the reason(s) for suicide by the law enforcement agencies are the other frustrating challenges for the people. In the biggest human loss, not a single case is identified nor local government administration did not public their findings.
Pending, hiding, or delaying factual reasons (s) for youth’s suicide may turn into problematic in the near; the recent suicide rate indicates that in the future there will be losses of human capital.
- In 2014 two (22 to 24 years) male youths hanged themselves on a tree but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2015 one (25) years male youth hanged himself on a tree but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2015 one 25 years old woman hanged herself in the cattle- shade but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2016 again 22 years boy suicide himself by using a revolver but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2015 two boys died brutally but it is still unclear whether it is murder or suicide; people are suspicious about that losses, but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2016 one young youth hanged himself at his home but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2016 one young female hanged herself at her home but the cause(s) of committing suicide still did not public!
- In 2020 a highly foreign qualified youth of the area committed suicide.
- In 2021 Adiba’s death case went to court and different civil society activists brought it to national and international Media to give justice to her, her case is in the court trial, and hope people will know whether it is suicide or murder.
- Recently Mr,Murad Khan a religious leader and social activist committed suicide in Chipuran valley, it is an irreparable loss to the community and the entire region. He has kept behind 10 minutes long audio/ video notes and explained his suicide-committing causes. Now it is the authentic evidence to the law and enforces agencies to go the root causes of the suicide; otherwise, it will become a just story of other valuable youth’s lives losses.
These are the suicides information in the smallest population of Gilgit-Baltistan; the community losses human capital yearly through unethical ways. Now it is time to rethink to prevent these human losses; do we prevent these losses through big speeches by the time-framed leadership? Or find alternative ways to go at the roots causes of the human losses? Can we research to find the causes of suicide? If we find the factual data on suicide then can make a strategy to overcome this threat; without finding the root causes of it discussing in social media, blaming each other and giving big speeches in the public will remain wastage of time and losses of human capital.
Saturday, April 2, 2022
سیاسی انتہاپسندی (حیدر بدخشانی)
سیاسی انتہاپسندی
(حیدر بدخشانی)
انتہاپسندی کسی بھی شکل میں ہو معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے اور معاشرتی اور سماجی استحکام کو ہمیشہ متاثر کرتی ہے۔ انتہاپسندی کی مختلف تعریفیں ہیں، کسی بھی معاملے میں اپنی رائے کو حتمی سمجھنا، اپنے فیصلوں پر کسی بھی حال میں سمجھوتہ نہیں کرنا، اپنے موقف پر ڈٹے رہنا اورکسی کی رائے کو اہمیت نہیں دینا چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو، اور سب سے بڑھ کر اپنے ذاتی خیالات، فیصلے، مشاہدات، تصورات اور عقائد کو دوسروں پر اس طرح مسلط کرنا کہ مفاہمت اور سوال کرنے کا اختیار ہی نہ رہے۔
انتہاپسندی کی کئی اقسام ہوسکتی ہیں، ان میں مذہبی انتہاپسندی، لسانی انتہاپسندی، لسانی و علاقائی انتہاپسندی، نسلی و صنفی انتہاپسندی اور سیاسی انتہاپسندی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زندگی کے تمام پہلووں میں کسی بھی حد سے تجاوز کر کے اپنے تعلق کو اہمیت دینا انتہاپسندی کے زمرے میں آتے ہیں۔
جب ہم انتہاپسندی کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی ہی اس کی ایک قسم ہے اور دیگر قسموں کے بارے میں سوچنے اور ان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ حالانکہ انتہاپسندی کے دیگر اقسام بھی معاشرے کی ترقی و مفادات کے لئے اتنا ہی نقصان دہ ہیں جتنا کہ ہم مذہبی انتہاپسندی کے نقصانات کا واویلا کرتے ہیں۔
مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت کاروائی کرنے کے لئے تمام طبقاتِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ یک زبان ہیں، یہ اچھی بات ہے ، مگرسوال یہ کہ ان سیاسی انتہاپسندوں کے خلاف کاروائی کون کرے گا، ان کے لئے ایکشن پلان کون بنائے گا؟ یہی وہ لوگ ہیں جو سیاست کے نام پر ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہیں اور باری باری ایوانِ اقتدار میں آکر عوام کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں۔ بظاہر تو ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانات دیتے پھرتے ہیں لیکن اندرونی طور پر چھوٹے بڑے بھائی ہیں۔
گلگت بلتستان کے صوبائی اسمبلی کے انتخابات چند مہینوں میں متوقع ہیں، اس میں علاقائی پارٹیوں کے علاوہ پاکستان کی بڑے سیاسی پارٹیاں حصہ لینے کے لئے سیاسی جوڑتوڑ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اس سے قبل نگران کابینہ کی تشکیل میں جس قدر پسند اور ناپسند کی بنیاد پر وزراء کی فوج بھرتی کی گئی اس میں بھی عام خیال کے مطابق سیاسی مفادات شامل ہوسکتی ہیں اور مستقبلِ قریب میں الیکشن کی شفافیت پر بھی اس کے برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
اہل دانش کا خیال یہ ہے کہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سیاسی ، علاقائی اور دیگر مفادات کے پہلووں کو پسِ پشت ڈال کر چند تعلیم یافتہ، تجربہ کار، تمام حلقوں کے لئے قابل قبول اور سب سے بڑھ کر غیر سیاسی لوگوں کو نگران کابینہ میں شامل کیا جاتا۔ تاکہ اس نوزائیدہ صوبہ کی معشیت پر بوجھ بنتے اور نہ ہی وزراء کی اس کثیر تعداد پر بجٹ کا کثیر حصہ پروٹوکول اور دیگر آسائیشات پر خرچ ہوجاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں پر وزارتوں کے قلمدان سنبھالنے کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم ہورہی ہیں تو کہیں کابینہ میں حصہ نہ ملنے پر احتجاج ۔
سیاست ایک منافع بخش کاروبار کی مانند نظر آرہی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ شیئر حاصل کرنے کے لئے ہم خیال لوگوں کی گروہ مختلف پارٹیوں کے بھیس میں ہر جائز و ناجائز ہتکھنڈے استعمال کرتے ہیں، چاہے دوسرے نظریاتی گروہوں کی پگڑیاں ہی کیوں نہ اچھالنے پڑے۔
اس کاروبار میں اس گروہ کو زیادہ کامیاب مانا جاتا ہے جو عوام کو بے وقوف بناکر ان سے ووٹ نکلوانے میں سب سے زیادہ مہارت رکھتا ہو۔ کیونکہ جتنا زیادہ ووٹ ملے گا اتنے ہی سرکاری خزانے پر اس گروہ کی گرفت مضبوط ہوگی۔ اس لئے الیکشن سے قبل اور خاص طور پر الیکشن کے دنوں میں پارٹی کے عہدہ داراں اس بات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ ان کے قول و فعل سے کسی ووٹر کی دل آزاری نہ ہو اور ایسے شریف الطبع بن جاتے ہیں کہ اکثر ان کے دوست، محلہ دار اور حتی کہ گھر والے بھی حیران رہ جاتے ہیں۔
ووٹر کی جتنی عزت و احترام الیکشن کے دنوں میں ہوتی ہے وہ بعد کے پانچ سالوں میں کبھی نہیں ہوتی۔ مگر جوں ہی الیکشن کی گہما گہمی ختم ہوجاتی ہی۔ اقتدار کی کرسی پر براجماں ہونے کے بعد اپنی شخصیت سے شرافت، ایمانداری ، انصاف اور اور خلوص نام کی چیزوں کو آئیندہ الیکشن تک ختم کر کے اقرباء پروری، رشوت خوری اور تکبر کو جگہ دیتے ہیں۔
ہم نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جو جیتنے کے بعد الیکشن کی مہم چلانے والے کارکنوں کو پہچانتے بھی نہیں، الیکشن کے دوران کی گئی اخراجات جس میں ہوٹل کے بل، گاڑیوں کے کرائے وغیرہ شامل ہیں،ان کی ادائیگی تو دور کی بات ہے۔ ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جواپنی ذاتی خزانوں کو بھرنے اور سرکاری خزانے تک پہنچنے کے لئے غریب عوام کو بے وقوف بنا کر ان کا سہارا لیتے ہیں۔ یا تو اس کے لئے مسلک کا استعمال کیا جاتا ہے یا زبان، علاقہ اور نسلی بنیاد پر لوگوں کے جذبات سے کھیل کر ان کے ووٹ حاصل کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال کے عوام الیکشن میں ایسے امیدوارں کے ساتھ تعاون کرے جن کا تعلق معاشرے کے متوسط طبقے سے ہو اور عوام کے لئے درد رکھتا ہو۔ یہ پرانے مگرمچھ چاہے جتنا ہی علاقے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کی باتیں کرتے ہیں ان کا بنیادی مقصد ذاتی مفاد، پارٹی میں اپنے لئے جگہ بنانے، پارٹی کے بڑے نوسرباز جو چوہدری، میاں، زرداری، بھائی اور خان بن کر مرکز میں بیٹھے ہیں، ان کو خوش کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔
ووٹ کے بہتر استعمال سے ہی ان مفاد پرستوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور یہی ان کے خلاف ایکشن پلان ہے۔ ورنہ ایک چور جائیگا تو دوسرا آئیگا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)


