Wednesday, December 10, 2025

تحریر: شرافت علی ہنزہ اور گوجال میں کچھ عرصے بعد محکمۂ سیاحت گلگت Trousim Department GB کے زیرِ اہتمام ونٹر اسپورٹسWinter Sport's اور (Seven day's Winter feast)سیون ڈیز فیسٹ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے

تحریر: شرافت علی ہنزہ اور گوجال میں کچھ عرصے بعد محکمۂ سیاحت گلگت Trousim Department GB کے زیرِ اہتمام ونٹر اسپورٹسWinter Sport's اور (Seven day's Winter feast)سیون ڈیز فیسٹ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے
۔ اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان تقریبات سے ہنزہ اور گوجال کے مقامی عوام کو کیا عملی فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ ہنزہ اور گوجال کے عوام کا پُرزور مطالبہ ہے کہ اس سال ان ایونٹس میں تمام انتظامی امور، فنّی و ثقافتی پرفارمنسز، اسٹالز، لائٹنگ، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سہولیات مقامی افراد اور مقامی اداروں کے سپرد کی جائیں۔اگر پلاننگ اور کوآرڈینیشن مقامی افراد کے ساتھ کی جائے تو وہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرام خود منظم کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے علاقے میں پائیدار سیاحتی نظام فروغ پائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ ان کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی اور علاقے کی مجموعی ترقی کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ یہ ضروری ہے کہ سیاحتی سرگرمیوں کے ثمرات براہِ راست مقامی کمیونٹی تک پہنچیں، تاکہ ہنزہ گوجال کے باشندے خود کو ان قومی و علاقائی تقریبات کا حقیقی حصہ محسوس کر سکیں۔ مزید یہ کہ اگر ان تقریبات میں مقامی نوجوانوں، ہنر مند افراد اور کاروباری طبقے کو ترجیح دی جائے تو اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقے کے پوشیدہ ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا بھی موقع ملے گا۔ مقامی موسیقی، ثقافت، دستکاری اور روایتی کھانوں کی نمائندگی سے ہنزہ گوجال کی اصل پہچان اجاگر ہوگی، جو سیاحوں کے لیے بھی ایک پُرکشش تجربہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح مقامی سطح پر ایونٹس کے انعقاد سے بیرونی اخراجات میں کمی آئے گی اور وسائل کا درست استعمال ممکن ہوگا۔ اگر پلاننگ اور کوآرڈینیشن مقامی افراد کے ساتھ کی جائے تو وہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرام خود منظم کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے علاقے میں پائیدار سیاحتی نظام فروغ پائے گا۔ محکمۂ سیاحت سے گزارش ہے کہ وہ ان تقاریب کو محض نمائشی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی کمیونٹی کی شمولیت، معاشی بہتری اور دیرپا ترقی کا ذریعہ بنائے، تاکہ ہنزہ گوجال حقیقی معنوں میں ایک خودمختار اور بااختیار سیاحتی خطہ بن کر ابھرے۔ شکریہ!

Saturday, December 6, 2025

آئیں، گلگت بلتستان کیلئے اکٹھے ہو جائیں۔ اقبال عیسیٰ خان

گلگت بلتستان قدرت کا وہ شاہکار ہے جسے دنیا کے نقشے پر ایک انمول نگینہ کہنا مبالغہ نہیں۔ یہاں کی بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض گلیشیئرز، دریاؤں کی روانی، معدنی وسائل کی فراوانی اور ایسے ایسے قدرتی خزانوں کی موجودگی جن کا تصور بھی بہت سے ترقی یافتہ ممالک کیلئے قابلِ رشک ہے۔ اس خطے کی خوب صورتی صرف اس کے مناظر تک محدود نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت اسے دنیا کے اسٹریٹیجک مراکز میں شامل کرتی ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے سنگم پر واقع گلگت بلتستان نہ صرف خطے کی سیاست میں کلیدی کردار رکھتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز بھی ہے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کا اصل سرمایہ اس کا انسان ہے۔ وہ انسان جس کی صلاحیت نے دنیا بھر میں مقام پیدا کیا، وہ نوجوان جس نے تعلیمی اداروں، دفاعی فورسز، سول سروسز، میڈیکل، انجینئرنگ، آئی ٹی، کاروبار اور بین الاقوامی فورمز میں طویل جدوجہد کے باوجود اپنی شناخت قائم کی۔ وسائل کی کمی نے اسے روکا نہیں، ماضی کی محرومیوں نے اس کی رفتار کم نہیں کی۔ یہ وہ علاقہ ہے جس کا انسانی سرمایہ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے سے کم نہیں، بلکہ بعض پہلوؤں میں زیادہ مضبوط اور زیادہ کامیاب ہے۔ تاہم ایک حقیقت جسے آج پوری سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے مسائل بھی اپنی نوعیت میں منفرد اور بڑے ہیں۔ یہ خطہ محض داخلی چیلنجز کا شکار نہیں بلکہ بین الاقوامی حساسیت کا بھی مرکز ہے۔ ایسے میں یہ تصور کہ کوئی ایک جماعت، ایک نظریہ، ایک قومی یا مقامی گروہ، یا ایک فرد ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتا ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہاں نہ کوئی وفاقی جماعت تنہا کامیاب ہو سکتی ہے، نہ قوم پرست پلیٹ فارم اکیلے یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں، نہ مذہبی یا بائیں بازو کی جماعتیں اپنی الگ حکمتِ عملی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔ لہٰذا لازمی ہے کہ سیاسی شناخت سے بالاتر ہو کر اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ چاہے کوئی PTI، PMLN، PPP، JI، ANP، PMLQ، MWM، اسلامی تحریک یا JUI-F سے تعلق رکھتا ہو، یا بائیں بازو کی جماعت AWP سے، یا قوم پرست پارٹی جیسے KNM یا بالاورستان نیشنل موومنٹ سے وابستہ ہو، حقیقت یہی ہے کہ اس خطے کا مستقبل کسی ایک پارٹی یا گروہ کے بس میں نہیں۔ یہ خطہ اجتماعی ذمے داری ہے، مشترکہ ورثہ ہے، اور متحد قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں ان بیرونی خطرات کو پہچاننا ہوگا جو جغرافیائی سیاست، بین الاقوامی مفادات، سرحدی تناؤ، ماحولیاتی تبدیلی اور اقتصادی مسابقت کی شکل میں ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ان اندرونی مواقع تک رسائی بھی حاصل کرنی ہے جو پاکستان کے اندر ہمارے سامنے موجود ہیں: آئینی حقوق کا حصول، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ داری، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، توانائی کے شعبے میں انقلاب، پائیدار سیاحت کی مضبوط بنیاد، معدنی وسائل کا شفاف استعمال، سی پیک کے معاشی فوائد، خصوصی اقتصادی زونز، جدید تعلیم و ٹیکنالوجی تک رسائی، ہنرمند نوجوانوں کیلئے قومی سطح کے پلیٹ فارمز، یہ سب صرف اتحاد کی صورت میں ممکن ہیں۔ اس پورے معاملے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے سیاسی اختلاف کو نفرت میں بدل دیا ہے۔ پارٹی رکنیت بدلتے ہی دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں دلیل کی جگہ گالی نے لے لی، اور مکالمے کی جگہ نفرت نے۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی جماعت، رہنما یا کارکن سے نفرت نہ تو مسئلے کا حل ہے، نہ ترقی کا راستہ۔ نفرت صرف تقسیم پیدا کرتی ہے، اور تقسیم ہمیشہ محرومی، غربت، دباؤ اور پس ماندگی کا باعث بنتی ہے۔ آج گلگت بلتستان کو اتحاد کی ضرورت ہے، تقسیم کی نہیں۔ عزت دار مکالمے کی ضرورت ہے، الزام تراشی کی نہیں۔ اجتماعی وژن کی ضرورت ہے، ذاتی انا کی نہیں۔ اگر ہم واقعی اس خطے کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو سیاسی اختلاف کو دشمنی کے بجائے تنوع سمجھ کر قبول کرنا ہوگا۔ اختلاف رہے مگر احترام کے ساتھ۔ نظریات مختلف ہوں مگر مقصد ایک ہو: ایک بااختیار، ترقی یافتہ، خوشحال اور متحد گلگت بلتستان۔ آئیں مل کر وہ معاشرتی معاہدہ بنائیں جس میں ہر جماعت، ہر طبقہ، ہر نظریہ، ہر نسل اور ہر شہری اپنی ذمہ داری نبھائے۔ آئیں مل کر وہ سمت اختیار کریں جس میں گلگت بلتستان ایک مضبوط، آئینی طور پر شناخت شدہ اور معاشی طور پر بااختیار خطہ بن سکے۔ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا حق بھی۔ وقت کا پیغام واضح ہے: تقسیم کمزوری ہے، اتحاد طاقت۔ نفرت زوال ہے، اتفاق ترقی۔ اختلاف فطری ہے، مگر مقاصد مشترکہ ہونے چاہئیں۔ #Unity #UniteForGilgitBaltistan #PoliticalParties #CivilSociety #IqbalEssaKhan #NaturalResources #ReligiousLeaders #Prosperous
IqbalEssaKhan@yahoo.com

Wednesday, December 3, 2025

چپورسن میں زیرِ زمین دھماکوں کا سلسلہ جاری — ماہرین اور این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

چپورسن،گوجال ہنزہ ، گلگت بلتستان ماہرین کی تحقیق اور این ڈی ایم اے ٹیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق وادیٔ چپورسن کے دائیں، بائیں اور پہاڑ کے دوسری جانب سے فالٹ لائنز گزرتی ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں زیرِ زمین دھماکوں اور مقامی سطح پر محسوس ہونے والے جھٹکوں کی ٹھوس وجوہات واضح طور پر بیان نہیں کی گئی، اور ماہرین کے مطابق ان کی درست نشاندہی فی الحال ناممکن ہے۔ رپورٹ کے مطابق 13 اکتوبر 2025 کو رات 8 بج کر 58 منٹ پر آنے والے زلزلے کی شدت 4.48 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی 5 کلومیٹر تھی۔ عموماً 5 سے کم شدت کے زلزلوں کو نارمل قرار دیا جاتا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ وادیٔ چپورسن میں اب تک تمام زیرِ زمین دھماکے معمولی نوعیت کے ریکارڈ کیے گئے ہیں اور علاقے کی تاریخ میں پہاڑوں کے سرکنے کا کوئی واقعہ بھی سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود، گزشتہ کئی مہینوں سے جاری زیرِ زمین دھماکوں کا سلسلہ مقامی آبادی کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں رہنے والی آبادی، بالخصوص بچوں اور بزرگوں میں خوف اور بے چینی کی فضا برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق زیرِ زمین دھماکوں کا تسلسل دراصل ایک بہتر علامت بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے زمین کے اندر جمع گیس آہستہ آہستہ خارج ہوتی رہتی ہے، جبکہ گیس کے جمع ہوجانے اور یکبارگی اخراج سے بڑے حادثات پیش آسکتے ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر زلزلوں کی درست پیشگوئی ممکن نہیں، مگر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نقصان کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر ماہرین اور مقامی قیادت نے حکومتِ وقت سے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔ سفارشات میں شامل ہیں: رہائشی مکانات اور اردگرد کے خطرات کا فوری سروے وادیٔ چپورسن میں حفاظتی شیلٹرز کا انتظام دراڑوں والے گھروں کے مکینوں کی محفوظ عمارتوں میں منتقلی عوام میں باہمی تعاون، ہم آہنگی اور احتیاطی شعور کی بیداری مقامی آبادی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت بروقت اقدامات کرتے ہوئے صورتحال کو سنجیدگی سے لے گی اور وادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ آخر میں عوام نے دعا کی کہ ربِ ذوالجلال تمام باشندگانِ وادی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ عباس علی نور | چیپورسن ٹی وی