Wednesday, June 22, 2022
ارشاد پاس اور واخان کوریڈور کے حوالے سے ارباب اختیار سےچند سوالات
#GOVERNMENTOFGILGIT-BALTISTAN
#GeologicalsurveyofPakistan
#FCNAGilgit
#ColAbaidullahbaig
#CMGILGITBALTISTAN
وادی چپورسن کے باشندوں کا ایک وسیع وعریض چراگاہ ارشاد پاس کو کراس کرنے کے بعد واخان کوریڈور لٹل پامیر سے منسلک ہے جہاں پر وادی چپورسن کے باشندے ہر سال گرمیوں کے موسم میں اپنے مال مویشی اور ہزاروں کی تعداد میں یاک چرانے کے لئے لے کر جاتے ہیں نیز اس علاقے سے وادی چپورسن کے باسی بارٹر ٹریڈ بھی کرتے رہتے ہیں
یہ سلسلہ پچھلے 1000 سالوں سے جاری ہے البتہ رشیا افغانستان وار کے دوران یہ سلسلہ چند سالوں کے لئے منقطع ہوا تھا لیکن 1994 سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے
نیز سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوے اس علاقے کی تاریخ اور واقعات کے علاوہ گلگت بلتستان کے مورخوں کے تصانیف، ارشاد پاس سے لے کر بازاے گنبذ لٹل پامیر تک وادی چپورسن کے باسیوں کے قدیمی سیٹلمنٹس، وہاں کے مختلف مقامات کے نام وادی چپورسن کے باسیوں کے نام پر ہونا، ہنزہ سٹیٹ کے دوران ہنزہ کے حکمرانوں کی طرف سے وہاں پر حفاظت کے لیے تعینات کئے گئے بارڈر فورس کے رہنے کی جگہیں، وادی چپورسن کے باسیوں کی قبریں، برطانوی حکومت کی طرف سے بارڈر کی نشاندہی کے لیے بھیجے گئے ایجنٹ مسمی "شامبرگ" کے لگائے گئے نشانات اور یورپی سیاحوں کے لکھے گئے سفرنامے اس بات کے شاھد ہیں کہ یہ علاقہ صدیوں سے ہنزہ سٹیٹ کا حصہ اور وادی چپورسن کے باسیوں کی چراگاہیں ہیں اور1974میں ہنزہ سٹیٹ کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد چپورسن کے باشندوں کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان کا بھی حصہ ہے
لیکن اب یہ خبر آرہی ہے کی پاکستان آرمی کی طرف سے ارشاد پاس پر باڈ لگائی جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ارشاد پاس کو بارڈر ڈیکلئر کیا جا رہا ہے
لہذا اس صورت حال میں ارباب اختیار سے چند معصومانہ سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں
1َ _یہ باڈ ارشاد پاس پر کیوں لگایا جا رہا ہے؟
2َ _باڈ کی تنصیب کے بعد وادی چپورسن کے باسیوں کے یاک اور مال مویشی کا کیا ہوگا واضح رہے کہ وادی چپورسن کی معیشت کا 50 فیصد دارومدار مال مویشی پر ہے اور مال مویشیوں خصوصاً یاک کی فارمنگ کا دارومدار انہی چراگاہوں پر ہے؟
3ُ _یہ علاقہ سیاحتی، سنٹرل ایشیا کے ساتھ سب سے آسان، نزدیک ترین اور محفوظ رابطے، جغرافیائی اور نایاب جانوروں اور پودوں کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے تو حکومت اور آرمی کے ادارے اس علاقے کی طرف توجہ کیوں نہیں دے رہی ہیں اور باڈ ارشاد پاس پر لگا کر اس قدر قیمتی علاقے کو الگ کیوں کر رہے ہیں
4- اس اہم ترین مسئلہ کے حوالے سے مقامی باشندوں کے ساتھ ڈائیلاگ کر کے ان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جارہا ہے؟ حالانکہ اس معاملے میں مقامی افراد اور ادارے کئی بار اربابِ اختیار کو وفود کی صورت میں کئی بار مل کر اور تحریری طور پر درخواست دے چکے ہیں
orignal post source:https://www.facebook.com/munir.uddin.148
Subscribe to:
Post Comments (Atom)



No comments:
Post a Comment