Sunday, February 20, 2022
عبوری آئینی صوبہ
ارباب کی قلم سے!
عبوری آئینی صوبہ کے حوالے سے آج کل بہت زیادہ گفتگو کی جا رہی ہیں لیکن میں اس کوگلگیت بلتستان کی ترقی کے لیے ایک اچھا سیاسی قدم تصور کرتا ہوں کی کچھ نہ ہو نےسےکچھ تو ھورہا۔امیدہے کی ہمارے ارباب اختیار علاقے کی بہتری میں اپنا بھرپور کردار ادا کر ینگے۔اس وقت عوام اور دنیا کی نظریں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہ مرکوز ہے لوگوں کو اس انداز میں باتیں کرتے دیکھا کہ کیا سنیٹ میں جی بی کو کتنا نشستیں ملیں نگےاور قومی اسمبلی کہ اراکین کی تعداد کیا ہو گی۔ان تمام باتوں کا جواب تو واضح طور پر ھمارے نماہندوں کے پاس ہیں یانہیں لیکن عوام کی اکثریت اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سوچ رکھتے ہیں کیونکہ پچھلے چوہتر سالوں میں اس خطے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا رہا اور بنیادی حقوق نہیں دیے گئے۔چونکہ اب ایک نئی عبوری آ ئیں دیا جارہا ہے عوام کو توقع ہے کہ آنے والے سالوں میں اس کو مکمل صوبائی خود مختاری دی جائے گی۔اسکےعلاوہ میں حکومت میں شامل ہمارے نمائندوں کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرونگا کہ ضلع ہنزہ ایک بہت بڑا وسیع وعریض علاقے پر محیط ضلع ہے جس کی نمائندگی ایک شخص سے نہیں ہو سکتا اس موقع کو غنیمت جان کر جہاں جہاں بھی سیٹوں کی ضرورت ہے ہنزہ سمیت انکی سیٹوں کو عوام الناس کی خواہشات کے مطابق دے دیا جائے میں قوی امید کرتا ہوں کہ ہنزہ کے لیے اس ایک سیٹ کے ساتھ دو اضافی سیٹوں کی ضرورت ہے اور اس میں ہی انصاف ہیں۔تاکہ اس چارممالک کےسنگم میں واقع اس ضلع کے لوگوں کی حق تلفی کا ازالہ کیا جاسکے۔امید ہیں کہ یہ بات ہمارے نمائندوں کی سمجھ میں آ جائے گی۔وسلام خیر اندیش.
ارباب قاسم خان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment