CHIPURSON TV
Thursday, January 22, 2026
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے احکامات کی روشنی میں چپورسن میں زلزلہ متاثرین کو امداد کی فراہمی جاری:
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے احکامات کی روشنی میں چپورسن میں زلزلہ متاثرین کو امداد کی فراہمی جاری:
چپورسن میں زلزلہ متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اقدامات میں مزید تیزی، مقامی کمیونٹی کو شدید سردی کے موسم میں امداد فراہم کرنے کے لیے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹٰ سمیت دیگر حکومتی ادروں ، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے زیلی ادارے AKAH نے چپورسن میں امدادی اشیاء تقسیم کیں اور متاثرین کی عملی امداد کے لئے مزید اقدامات کئے ، مقامی کمیونٹی کی درخواست پر 215 خصوصی خیموں ، 650 گرم کمبلوں سمیت فوڈ پیکس بھی مہیا کر دیئے گئے ہیں۔ اشیائے خورد نوش کی کمی کو پورا کرنے کے لئے چپورسن میں 900 عدد ڈیڑھ لیٹر کی پانی کی بوتلوں سمیت 150 دودھ کے کارٹن اور شیر خوار بچوں کے لئے دودھ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق زلزلے کو چوتھے روز بھی امدادی سرگرمیاں زور شور سے جاری ہیں ۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کرنے اور متاثرین کی بلاتعطل مدد کرنے کے لیئے فوری احکامات بھی جاری کردیئے ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری کے احکامات کی روشنی میں گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) اور محکمہ مواصلات و تعمیرات گلگت بلتستان نے علاقے میں سڑکوں کی بحالی کے لئیے ہنگامی اقدامات کیئے ہیں اور روڈز کو فوری طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں ہنگامی حالات کے پیش نظر آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (اے کے اے ایچ) نے بھی ہیلی کاپٹر سورٹی بھیج کر نقصان کا جائزہ لیا ہے۔
21 جنوری کو صوبائی وزراء کی ایک وفد سمیت سرکاری اعلیٰ حکام نے متاثرہ وادیوں کا دورہ کیا، زلزلے سے متاثرہ گھروں اور زمینی دراڑوں کا معائنہ کیا۔ گلگت میں ایک اہم اجلاس میں گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) اور آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (اے کے اے ایچ) سمیت دیگر زمہ دار اداروں نے صورتحال پر تفصیلی غور خوض کیا اور ممکنہ امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔ سردی کے موسم میں پیش آنے والے ہنگامی حالات کے پیش نظر بیماریوں سے بچاؤ، فوری ضرورت کی اشیاء کی فراہمی، ادویات اور ہیٹنگ کی سہولیات، سینیٹشن اور ہائیجن کے حوالے سے سہولیات کی فراہمی اور زخمیوں کے لیے بہترین صحت و بحالی کی سہولیات کے حوالے سے اجلاس میں تجاویز پیش کی گئیں ، اجلاس میں جی بی ڈی ایم اے اور آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ کے حکام نے موجودہ صورتحال سے بخوبی نمٹنے کے لئے قریبی تعاون کا عہد کیا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل جی بی ڈی ایم اے نے ڈپٹی کمشنر ہنزہ کو فوری جائزوں کی نگرانی کا حکم دیا ہے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق امدادی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔ 22 جنوری کو پاک فوج کی جانب سے ایک خصوصی ٹیم نے سی او 20 انجنئرز کی سربراہی میں چپورسن میں زلزلے سے متاثرہ وادیوں کا دورہ کیا۔ ٹیم میں پاک فوج کے انجینئرز سمیت دیگر زمہ داران شامل تھے، پاک فوج کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ایندھن، خیمے ، گرم کپڑے، گرم کمبل، اشیائے خورد نوش ، خوردنی تیل، چائے پتی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ بھی فراہم کی گئیں، ایف سی این اے کی جانب سے بھیجی گئی خصوصی ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ بھی مرتب کی ہے۔
Wednesday, December 10, 2025
تحریر: شرافت علی ہنزہ اور گوجال میں کچھ عرصے بعد محکمۂ سیاحت گلگت Trousim Department GB کے زیرِ اہتمام ونٹر اسپورٹسWinter Sport's اور (Seven day's Winter feast)سیون ڈیز فیسٹ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے
تحریر: شرافت علی
ہنزہ اور گوجال میں کچھ عرصے بعد محکمۂ سیاحت گلگت Trousim Department GB کے زیرِ اہتمام ونٹر اسپورٹسWinter Sport's اور (Seven day's Winter feast)سیون ڈیز فیسٹ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان تقریبات سے ہنزہ اور گوجال کے مقامی عوام کو کیا عملی فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
ہنزہ اور گوجال کے عوام کا پُرزور مطالبہ ہے کہ اس سال ان ایونٹس میں تمام انتظامی امور، فنّی و ثقافتی پرفارمنسز، اسٹالز، لائٹنگ، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سہولیات مقامی افراد اور مقامی اداروں کے سپرد کی جائیں۔اگر پلاننگ اور کوآرڈینیشن مقامی افراد کے ساتھ کی جائے تو وہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرام خود منظم کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے علاقے میں پائیدار سیاحتی نظام فروغ پائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ ان کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی اور علاقے کی مجموعی ترقی کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
یہ ضروری ہے کہ سیاحتی سرگرمیوں کے ثمرات براہِ راست مقامی کمیونٹی تک پہنچیں، تاکہ ہنزہ گوجال کے باشندے خود کو ان قومی و علاقائی تقریبات کا حقیقی حصہ محسوس کر سکیں۔
مزید یہ کہ اگر ان تقریبات میں مقامی نوجوانوں، ہنر مند افراد اور کاروباری طبقے کو ترجیح دی جائے تو اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقے کے پوشیدہ ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا بھی موقع ملے گا۔ مقامی موسیقی، ثقافت، دستکاری اور روایتی کھانوں کی نمائندگی سے ہنزہ گوجال کی اصل پہچان اجاگر ہوگی، جو سیاحوں کے لیے بھی ایک پُرکشش تجربہ ثابت ہوگی۔
اسی طرح مقامی سطح پر ایونٹس کے انعقاد سے بیرونی اخراجات میں کمی آئے گی اور وسائل کا درست استعمال ممکن ہوگا۔ اگر پلاننگ اور کوآرڈینیشن مقامی افراد کے ساتھ کی جائے تو وہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرام خود منظم کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جس سے علاقے میں پائیدار سیاحتی نظام فروغ پائے گا۔
محکمۂ سیاحت سے گزارش ہے کہ وہ ان تقاریب کو محض نمائشی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی کمیونٹی کی شمولیت، معاشی بہتری اور دیرپا ترقی کا ذریعہ بنائے، تاکہ ہنزہ گوجال حقیقی معنوں میں ایک خودمختار اور بااختیار سیاحتی خطہ بن کر ابھرے۔
شکریہ!
Saturday, December 6, 2025
آئیں، گلگت بلتستان کیلئے اکٹھے ہو جائیں۔ اقبال عیسیٰ خان
گلگت بلتستان قدرت کا وہ شاہکار ہے جسے دنیا کے نقشے پر ایک انمول نگینہ کہنا مبالغہ نہیں۔ یہاں کی بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض گلیشیئرز، دریاؤں کی روانی، معدنی وسائل کی فراوانی اور ایسے ایسے قدرتی خزانوں کی موجودگی جن کا تصور بھی بہت سے ترقی یافتہ ممالک کیلئے قابلِ رشک ہے۔ اس خطے کی خوب صورتی صرف اس کے مناظر تک محدود نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت اسے دنیا کے اسٹریٹیجک مراکز میں شامل کرتی ہے۔ ایٹمی طاقتوں کے سنگم پر واقع گلگت بلتستان نہ صرف خطے کی سیاست میں کلیدی کردار رکھتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز بھی ہے۔
لیکن ان سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کا اصل سرمایہ اس کا انسان ہے۔ وہ انسان جس کی صلاحیت نے دنیا بھر میں مقام پیدا کیا، وہ نوجوان جس نے تعلیمی اداروں، دفاعی فورسز، سول سروسز، میڈیکل، انجینئرنگ، آئی ٹی، کاروبار اور بین الاقوامی فورمز میں طویل جدوجہد کے باوجود اپنی شناخت قائم کی۔ وسائل کی کمی نے اسے روکا نہیں، ماضی کی محرومیوں نے اس کی رفتار کم نہیں کی۔ یہ وہ علاقہ ہے جس کا انسانی سرمایہ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے سے کم نہیں، بلکہ بعض پہلوؤں میں زیادہ مضبوط اور زیادہ کامیاب ہے۔
تاہم ایک حقیقت جسے آج پوری سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے مسائل بھی اپنی نوعیت میں منفرد اور بڑے ہیں۔ یہ خطہ محض داخلی چیلنجز کا شکار نہیں بلکہ بین الاقوامی حساسیت کا بھی مرکز ہے۔ ایسے میں یہ تصور کہ کوئی ایک جماعت، ایک نظریہ، ایک قومی یا مقامی گروہ، یا ایک فرد ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتا ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہاں نہ کوئی وفاقی جماعت تنہا کامیاب ہو سکتی ہے، نہ قوم پرست پلیٹ فارم اکیلے یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں، نہ مذہبی یا بائیں بازو کی جماعتیں اپنی الگ حکمتِ عملی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔
لہٰذا لازمی ہے کہ سیاسی شناخت سے بالاتر ہو کر اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ چاہے کوئی PTI، PMLN، PPP، JI، ANP، PMLQ، MWM، اسلامی تحریک یا JUI-F سے تعلق رکھتا ہو، یا بائیں بازو کی جماعت AWP سے، یا قوم پرست پارٹی جیسے KNM یا بالاورستان نیشنل موومنٹ سے وابستہ ہو، حقیقت یہی ہے کہ اس خطے کا مستقبل کسی ایک پارٹی یا گروہ کے بس میں نہیں۔ یہ خطہ اجتماعی ذمے داری ہے، مشترکہ ورثہ ہے، اور متحد قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔
ہمیں ان بیرونی خطرات کو پہچاننا ہوگا جو جغرافیائی سیاست، بین الاقوامی مفادات، سرحدی تناؤ، ماحولیاتی تبدیلی اور اقتصادی مسابقت کی شکل میں ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ان اندرونی مواقع تک رسائی بھی حاصل کرنی ہے جو پاکستان کے اندر ہمارے سامنے موجود ہیں: آئینی حقوق کا حصول، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ داری، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، توانائی کے شعبے میں انقلاب، پائیدار سیاحت کی مضبوط بنیاد، معدنی وسائل کا شفاف استعمال، سی پیک کے معاشی فوائد، خصوصی اقتصادی زونز، جدید تعلیم و ٹیکنالوجی تک رسائی، ہنرمند نوجوانوں کیلئے قومی سطح کے پلیٹ فارمز، یہ سب صرف اتحاد کی صورت میں ممکن ہیں۔
اس پورے معاملے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے سیاسی اختلاف کو نفرت میں بدل دیا ہے۔ پارٹی رکنیت بدلتے ہی دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں دلیل کی جگہ گالی نے لے لی، اور مکالمے کی جگہ نفرت نے۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی جماعت، رہنما یا کارکن سے نفرت نہ تو مسئلے کا حل ہے، نہ ترقی کا راستہ۔ نفرت صرف تقسیم پیدا کرتی ہے، اور تقسیم ہمیشہ محرومی، غربت، دباؤ اور پس ماندگی کا باعث بنتی ہے۔
آج گلگت بلتستان کو اتحاد کی ضرورت ہے، تقسیم کی نہیں۔ عزت دار مکالمے کی ضرورت ہے، الزام تراشی کی نہیں۔ اجتماعی وژن کی ضرورت ہے، ذاتی انا کی نہیں۔ اگر ہم واقعی اس خطے کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو سیاسی اختلاف کو دشمنی کے بجائے تنوع سمجھ کر قبول کرنا ہوگا۔ اختلاف رہے مگر احترام کے ساتھ۔ نظریات مختلف ہوں مگر مقصد ایک ہو: ایک بااختیار، ترقی یافتہ، خوشحال اور متحد گلگت بلتستان۔
آئیں مل کر وہ معاشرتی معاہدہ بنائیں جس میں ہر جماعت، ہر طبقہ، ہر نظریہ، ہر نسل اور ہر شہری اپنی ذمہ داری نبھائے۔ آئیں مل کر وہ سمت اختیار کریں جس میں گلگت بلتستان ایک مضبوط، آئینی طور پر شناخت شدہ اور معاشی طور پر بااختیار خطہ بن سکے۔ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا حق بھی۔
وقت کا پیغام واضح ہے: تقسیم کمزوری ہے، اتحاد طاقت۔ نفرت زوال ہے، اتفاق ترقی۔ اختلاف فطری ہے، مگر مقاصد مشترکہ ہونے چاہئیں۔
#Unity #UniteForGilgitBaltistan #PoliticalParties #CivilSociety #IqbalEssaKhan #NaturalResources #ReligiousLeaders #Prosperous
IqbalEssaKhan@yahoo.com
Wednesday, December 3, 2025
چپورسن میں زیرِ زمین دھماکوں کا سلسلہ جاری — ماہرین اور این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
چپورسن،گوجال ہنزہ ، گلگت بلتستان
ماہرین کی تحقیق اور این ڈی ایم اے ٹیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق وادیٔ چپورسن کے دائیں، بائیں اور پہاڑ کے دوسری جانب سے فالٹ لائنز گزرتی ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں زیرِ زمین دھماکوں اور مقامی سطح پر محسوس ہونے والے جھٹکوں کی ٹھوس وجوہات واضح طور پر بیان نہیں کی گئی، اور ماہرین کے مطابق ان کی درست نشاندہی فی الحال ناممکن ہے۔
رپورٹ کے مطابق 13 اکتوبر 2025 کو رات 8 بج کر 58 منٹ پر آنے والے زلزلے کی شدت 4.48 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی 5 کلومیٹر تھی۔ عموماً 5 سے کم شدت کے زلزلوں کو نارمل قرار دیا جاتا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ وادیٔ چپورسن میں اب تک تمام زیرِ زمین دھماکے معمولی نوعیت کے ریکارڈ کیے گئے ہیں اور علاقے کی تاریخ میں پہاڑوں کے سرکنے کا کوئی واقعہ بھی سامنے نہیں آیا۔
اس کے باوجود، گزشتہ کئی مہینوں سے جاری زیرِ زمین دھماکوں کا سلسلہ مقامی آبادی کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں رہنے والی آبادی، بالخصوص بچوں اور بزرگوں میں خوف اور بے چینی کی فضا برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق زیرِ زمین دھماکوں کا تسلسل دراصل ایک بہتر علامت بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے زمین کے اندر جمع گیس آہستہ آہستہ خارج ہوتی رہتی ہے، جبکہ گیس کے جمع ہوجانے اور یکبارگی اخراج سے بڑے حادثات پیش آسکتے ہیں۔
اگرچہ عالمی سطح پر زلزلوں کی درست پیشگوئی ممکن نہیں، مگر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نقصان کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر ماہرین اور مقامی قیادت نے حکومتِ وقت سے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
سفارشات میں شامل ہیں:
رہائشی مکانات اور اردگرد کے خطرات کا فوری سروے
وادیٔ چپورسن میں حفاظتی شیلٹرز کا انتظام
دراڑوں والے گھروں کے مکینوں کی محفوظ عمارتوں میں منتقلی
عوام میں باہمی تعاون، ہم آہنگی اور احتیاطی شعور کی بیداری
مقامی آبادی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت بروقت اقدامات کرتے ہوئے صورتحال کو سنجیدگی سے لے گی اور وادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔
آخر میں عوام نے دعا کی کہ ربِ ذوالجلال تمام باشندگانِ وادی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
آمین۔
عباس علی نور | چیپورسن ٹی وی
Friday, November 14, 2025
یاسمین: مسکراہٹوں کا سورج غروب ہو گیا
بیٹی ملکہ یاسمین اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
زندگی خوبصورت اور حسین ہے، مگر یہ خوبصورتی صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو اسے پوری شیدت اور جوش سے جیتے ہیں۔ جینے کا اصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس انمول نعمت کو ہر پل، ہر لمحہ ایسا گزارا جائے کہ یہ بوجھ یا دکھ کا انبار نہ بنے، بلکہ خدا کی بے پایاں رحمتوں اور نعمتوں کا چشمہِ زلال لگے۔ اسے اس کی پوری لطافت، کیف اور حسن کے ساتھ جئیں، تاکہ دیکھنے والے آپ کی زندگی پر رشک کریں، افسوس کا اظہار نہ کریں۔
ایسی ہی ایک مسحور کن کہانی تھی میری بیٹی یاسمین کی۔ جب وہ گاؤں غلکن سے شادی ہو کر گاؤں شہر سبز چپورسن آئی، تو میں نے ہمیشہ اسے ہنستی، مسکراتی ہوئی دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہر دم ایک پُر نور، پُر کیف تبسم سجا رہتا، گویا یہ مسکراہٹ اس کی زندگی کو بھرپور جینے اور ہر کل کو خوبصورت بنانے کا زندہ ثبوت تھی۔ یاسمین نے جیسے ہی گاؤں شہر سبز میں بیاہ ہوگئی، اس نے ایک فعال گرلز گائیڈ اور مخلص والنٹیئر کے طور پر امام علیہ السلام کے گھر اور جماعت کی خدمات میں دل و جان سے حصہ لی۔ کونسل کے گاؤں سطح کے مختلف پورٹ فولیوز میں اس نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور لگن سے کام کیا، اور گاؤں کی ایک مثالی رکن کے طور پر ہمیشہ سرفہرست رہی۔ لیڈیز شاپ، خواتین کی تنظیم، وکیشنل سنٹر اور دیگر سماجی کاموں میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی، ہر جگہ اپنی فعالیت اور محبت کی چھاپ چھوڑتی رہی۔ بطور بہو، وہ گھر میں بیٹی کی مانند تھی؛ ساس سسر اور خاندان کے تمام افراد کی خدمت میں کبھی کوئی کسر نہ چھوڑی، ہر لمحہ خلوص اور محبت سے بھری رہی۔ اس کا ہر عمل، ہر رویہ، لوگوں سے برتاؤ آج بھی ہر زبان پر نقش ہے – ایک ایسی مثال جو دل موہ لیتی ہے۔
مگر اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ زندگی بہت ہی مختصر رہ گئی۔ کینسر جیسے ظالم اور دردناک مرض سے لڑتے لڑتے، اس نے آخر کار زندگی کی بازی ہار دی۔ اس کی بہادری بھری جدوجہد ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہر لمحہ کی قدر کرو، خدمت اور مسکراہٹ کو زندگی کا لازمی حصہ بناؤ، اور ہر سانس کو اللہ کی رضا کے لیے وقف رکھو۔ یاسمین کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی – ایک ایسی پاکباز روح جو دوسروں کی خوشیوں میں اپنی سعادت تلاش کرتی تھی، ایک ایسی روشنی جو اب بھی ہمارے دلوں کو منور کرتی ہے۔ مسکراہٹوں کا وہ سورج اب غروب ہو گیا، مگر اس کی کرنیں ہمیشہ چمکتی رہیں گی۔
آج شہر سبز کی ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل غم سے نڈھال اور خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہم نے آج اپنی پیاری بیٹی یاسمین کو بہت مختصر عمر میں کھو دیا – ایک ایسی بیٹی جو ہر دل عزیز تھی، گاؤں کے ہر فرد بڑے چھوٹے سب کی عزت و احترام کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اس کی مغفرت فرمائے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل بخشے۔ آمین🤲۔
Saturday, March 18, 2023
حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟
حسین نے نہایت ہی جوش و حیرت سے دیکھا کہ انہی چمنوں میں جا بہ جا نہروں کے کنارے کنارے سونے چاندی کے تخت بچھے ہیں جن پر ریشمی پھول دار کپڑوں کا فرش ہے۔
'لوگ پر تکلف اور طلائی گاؤ تکیوں سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں کو پہلو میں لیے بیٹھے ہیں اور جنت کی بےفکریوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ خوب صورت خوب صوت آفتِ روزگار لڑکے کہیں تو سامنے دست بستہ کھڑے ہیں اور کہیں نہایت ہی نزاکت اور دل فریب حرکتوں سے ساقی گری کرتے ہیں۔ شراب کے دور چل رہے ہیں اور گزک کے لیے سدھائے یا قدرت کے سکھائے ہوئے طیور پھل دار درختوں سے پھل توڑ توڑ کے لاتے ہیں اور ان کے سامنے رکھ کے اڑ جاتے ہیں۔'
یہ اقتباس عبدالحلیم شرر کے 1899ء میں شائع ہونے والے مشہورِ زمانہ ناول 'فردوسِ بریں' سے لیا گیا ہے جس میں وہ حسن بن صباح کی مصنوعی جنت کا ڈرامائی احوال بیان کر رہے ہیں۔
فردوسِ بریں کا شمار اردو کے مقبول ترین ناولوں میں ہوتا ہے۔ یہ آج بھی تعلیمی نصابوں کا حصہ ہے اور قریب قریب ہر سکول اور کالج کی لائبریری میں مل جاتا ہے۔
مغرب میں بھی اس ناول کو خاصی پذیرائی ملی۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور 2016ء میں یورپ کے کئی شہروں میں اسی ناول پر مبنی تھیئٹر ڈرامے دکھائے گئے جنھیں ذوق و شوق سے دیکھا گیا۔
شرر اس میدان میں اکیلے نہیں ہیں۔ مشرق و مغرب میں لکھی گئی درجنوں کہانیوں، ناولوں اور افسانوں میں اس مصنوعی جنت کا ذکر ملتا ہے جس میں نوجوانوں کو نشے میں دھت کروا کر جنت کے ماڈل پر تیار کردہ باغات و محلات میں عیش و عشرت کے ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اصل جنت میں پہنچ گئے ہیں، پھر انھیں بےہوش کرکے باہر لے جایا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بڑی شخصیت کو قتل کر دیں تو انھیں دوبارہ اسی جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔
مشہور ہے کہ ایسی ہی جنت 12/ ویں صدی میں ایران کے علاقے رودبار کے قلعۂ الموت میں حسن بن صباح نے قائم کی تھی جہاں وہ نوجوانوں کو ورغلا کر انھیں حکمرانوں، علما اور دوسرے مخالفین کے قتل کے لیے بھیجتے تھے۔
یہ حسن بن صباح کون تھے اور ان سے وابستہ ان حیرت انگیز دیومالائی کہانیوں میں کس حد تک صداقت ہے؟
ان کا اصل نام حسن الصباح تھا اور وہ 1050ء کی دہائی میں ایرانی شہر قم میں ایک عرب شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ لڑکپن ہی میں ان کے والد اس زمانے کے علمی گڑھ 'رے' چلے گئے۔ یہاں نوجوان حسن نے رائج علوم میں تیزی سے مہارت حاصل کرنا شروع کی۔
اپنی آپ بیتی 'سرگزشتِ سیدنا' (جس کے صرف چند ٹکڑے ہی باقی بچے ہیں) میں وہ لکھتے ہیں:
'سات برس کی عمر سے مجھے علوم کی مختلف شاخوں سے گہرا لگاؤ تھا اور میں مذہبی رہنما بننا چاہتا تھا۔ 17 سال کی عمر تک میں نے خاصا علم حاصل کر لیا تھا۔'
علوم کی یہ شاخیں دینیات کے علاوہ فلکیات، علمِ ہندسہ (جیومیٹری)، منطق اور ریاضی تھیں۔
اسی دوران ان کی ملاقات امیرہ زراب نامی اسماعیلی داعی سے ہوئی جنھوں نے نوجوان حسن کے زرخیز دماغ کے لیے بارش کا سا کام کیا۔ حسن ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ اسماعیلی ہو گئے۔
یہاں ہمارا سامنا ایک دلچسپ روایت سے ہوتا ہے جس کا ذکر ایڈورڈ فٹزجیرلڈ نے عمر خیام کی رباعیات کے ترجمے کے دیباچے میں بھی کیا ہے۔ قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حسن الصباح، مشہور شاعر، ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان عمر خیام، اور نظام الملک طوسی تینوں اس دور کے مشہور عالم امام موفق کے شاگرد تھے اور انھوں نے ایک دن مل کر عہد کیا تھا کہ جو کوئی پہلے کسی بڑے عہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرے گا وہ دوسروں کو نوازے گا۔
ہوا یوں کہ نظام الملک طاقتور سلجوق سلطان الپ ارسلان کے وزیراعظم بن گئے اور انھوں نے لڑکپن کے وعدے کو وفا کرتے حسن الصباح اور عمر خیام کو بڑے بڑے عہدے دینے کی پیشکش کی، البتہ دونوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر انھیں رد کر دیا۔
یہ کہانی ہے تو بڑی مزیدار، لیکن کیا یہ سچائی پر مبنی ہے؟ نظام الملک 1018ء میں پیدا ہوئے تھے، جب کہ حسن الصباح کا سال پیدائش 1050ء کے لگ بھگ ہے، جس کا مطلب ہے کہ نظام حسن سے 32 سال بڑے تھے۔
مزید یہ کہ 1059ء میں، یعنی جب حسن کی عمر نو سال کے قریب ہو گی، نظام الملک صوبہ خراسان کے گورنر بن کر پہلے ہی 'بڑے عہدے' تک پہنچ چکے تھے اس لیے یہ قرینِ قیاس نہیں ہے کہ وہ رے کے کسی نوعمر لڑکے کے ہم جماعت ہوں اور اس کے ساتھ کسی عہد نامے میں شریک ہوں۔
اس زمانے میں مصر پر فاطمی خاندان کی حکومت تھی جو اسماعیلی تھے۔ قاہرہ کی جامعہ الازہر انھی نے قائم کی تھی۔ حسن 1078ء میں مختلف ملکوں میں پھرتے پھراتے قاہرہ پہنچ گئے جہاں ان کے افسانے پہلے ہی سے پہنچ چکے تھے، چنانچہ فاطمی دربار میں ان کی بڑی آؤ بھگت ہوئی۔
حسن نے مصر میں تین سال گزارے لیکن اس دوران فاطمیوں کے سپہ سالار بدر الجمالی حسن کے مخالف ہو گئے اور انھیں زنداں میں ڈال دیا گیا۔ اتفاق سے زنداں کا مینار گر پڑا۔ اس واقعے کو حسن کی کرامت سمجھا گیا اور انھیں باعزت رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد حسن نے مصر میں مزید قیام مناسب نہیں سمجھا۔ وہ ایران لوٹ آئے اور اگلے نو برسوں تک مختلف علاقوں میں دعوت و تبلیغ میں مگن رہے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اپنی توجہ رودبار صوبے کے علاقے دیلمان پر مرکوز کرنا شروع کر دی۔ یہاں انھیں کوہ البرز کی برفانی چوٹیوں میں گھرا ہوا ایک قلعہ نظر آیا جو ان کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو سکتا تھا۔
یہ قلعہ الموت تھا۔
بظاہر تو لگتا ہے کہ اس قلعے کا نام موت یعنی مرنے سے متعلق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ الموت مقامی زبان کے الفاظ 'الا' اور 'آموت' سے نکلا ہے۔ دیلمانی زبان میں الا عقاب ہے اور آموت (فارسی میں آموخت) کا مطلب ہے سیکھنا۔ روایت مشہور ہے کہ اس علاقے کا حکمران وہاں شکار کھیل رہا تھا کہ اسے ایک پہاڑی پر عقاب اترتا ہوا دکھائی دیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس مقام کا جغرافیہ اس قسم کا ہے کہ اگر یہاں قلعہ بنایا جائے تو وہ ناقابلِ شکست ثابت ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے یہاں قلعہ تعمیر کروایا اور اس کا نام الموت پڑ گیا، یعنی 'عقاب کا سکھایا ہوا۔'
ہلاکو خان کے درباری مورخ عطا ملک جوینی نے، جن کا تفصیلی ذکر آگے چل کر آئے گا، اس قلعے کا دورہ کیا تھا۔ وہ اپنی کتاب 'تاریخِ جہاں گشا' میں لکھتے ہیں: 'الموت ایک ایسے پہاڑ پر واقع ہے جس کی شکل گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اونٹ کی مانند ہے۔ قلعہ جس چٹان پر تعمیر کیا گیا ہے اس کے چاروں طرف ڈھلوانیں ہیں، صرف ایک تنگ راستہ ہے جس کا بڑی آسانی سے دفاع کیا جا سکتا ہے۔'
حسن نے قلعہ الموت کے آس پاس کے علاقے میں ڈیرے ڈال دیے۔ ان کا پیغام زور پکڑتا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خود قلعے کے اندر ان کے حواریوں کی اتنی اکثریت ہو گئی کہ قلعہ دار حسین مہدی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ قلعے کا اختیار حسن کے حوالے کر کے وہاں سے رخصت ہو جائے۔ یہ واقعہ سنہ 1090ء کا ہے۔
اب حسن الصباح نے قلعہ الموت کو اپنا مرکز بنا کر آس پاس کے وسیع علاقے میں اپنا پیغام پھیلانے کا کام شروع کر دیا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ آس پاس کے کئی قلعے ان کے قبضے میں آ گئے جن میں سے کچھ کو خریدا گیا، کچھ پر بزور قبضہ کیا گیا اور کچھ ایسے تھے جس کے لوگوں نے دعوت سے متاثر ہو کر خود اپنے دروازے کھول دیے۔
قصہ مختصر چند برسوں کے اندر تقریباً تمام رودبار اور پڑوسی علاقوں میں حسن کی عملداری قائم ہو گئی۔
ان کے انہماک و ارتکاز کا یہ عالم تھا کہ وہ الموت میں آ جانے کے بعد 35 برس تک قلعے سے باہر نہیں گئے، بلکہ اپنے گھر سے بھی صرف دو بار باہر نکلے۔ تاریخ دان رشید الدین ہمدانی 'جامع التواریخ' میں لکھتے ہیں کہ 'وہ اپنی موت تک اپنے گھر ہی میں رہے جہاں وہ اپنا وقت مطالعے، دعوت تحریر کرنے، اپنی عملداری کا نظم و نسق چلانے میں گزارتے رہے۔'
سلجوق سلطان ملک شاہ نے اپنے دورافتادہ سرحدی علاقے چھن جانے کی خبر سن کر حسن الصباح کی سرکوبی کے لیے 1092ء میں ایک لشکر بھیجا جس نے الموت کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ قلعہ ناقابلِ تسخیر تھا، دوسری طرف آس پاس کے علاقوں سے حسن کے ماننے والوں نے کچوکے لگا لگا کر شاہی لشکر کو اس قدر زچ کیا کہ اسے چار ماہ کے بعد اپنا سا منھ لے کر لوٹتے ہی بنی۔
الموت کے محاصرے کے چند ماہ بعد 16/ اکتوبر 1192ء کو سلجوق سلطان کے وزیرِ اعظم اور حسن الصباح کے میبنہ ہم جماعت نظام الملک نہاوند ضلعے میں سفر کر رہے تھے کہ دیلمان کے علاقے کا ایک نوجوان، جس نے فقیروں کا بھیس بدلا ہوا تھا، ان کے قریب پہنچا اور اپنے چغے سے خنجر نکال کر ان پر وار کر دیا۔
رشید الدین ہمدانی کے مطابق حسن الصباح کو معلوم ہوا تھا کہ الموت پر سلجوقیوں کے حملے کے پیچھے دراصل نظام الملک کا ہاتھ تھا۔ انھوں نے ایک دن اپنے فدائیوں سے کہا: 'تم میں سے کون ہے جو اس ملک کو نظام الملک طوسی کے فتنے سے پاک کر سکے؟'
ایک نوجوان بو طاہر آرانی نامی نے ہاتھ بلند کیا اور بعد میں جا کر شیخ الجبال کے فرمان پر عمل کر ڈالا اور اس دوران خود بھی نظام الملک کے محافظوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہ حسن الصباح کی مہم کا پہلا 'خودکش' حملہ تھا۔
ظاہر ہے کہ سیاسی قتل حسن کی ایجاد نہیں تھا کہ یہ عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ۔ لیکن جس منظم طریقے سے اور جس وسیع پیمانے پر حسن نے اسے بطور آلہ استعمال کیا، اس کی وجہ سے ان کا نام اس سے منسلک ہو کر رہ گیا ہے۔
حسن کو معلوم تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ کبھی بھی سلجوقوں اور دوسرے طاقتور دشمن حکمرانوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ اس صورتِ حال میں انھوں نے وہ تکینک استعمال کی کہ بجائے ہزاروں کی تعداد میں فوجوں کا میدانِ جنگ میں دوبدو مقابلہ کیا جائے، بہتر یہی ہے کہ اپنے کسی جانثار فدائی کی تربیت کر کے اس کے ہاتھوں کسی حکمران، خطرناک وزیر، سپہ سالار یا مخالف مذہبی عالم کو قتل کروا دیا جائے۔
یہ طریقہ حیرت انگیز طور پر کامیاب ثابت ہوا۔ طوسی کے بعد حسن کے فدائین کے نشانے پر کئی حکمران، شہزادے، گورنر، جرنیل، اور علما بنے، اور ان کی دہشت نزدیک و دور تک پھیل گئی۔ کئی اہم شخصیات کسی بھی اجنبی سے ملنے سے کترانے لگے اور دوسرے اپنے لباس کے نیچے احتیاطاً زرۂ بکتر پہننے لگے۔
پچھلے چند عشروں کے دوران خودکش حملہ آوروں کی لہر کے بعد حسن الصباح کے نام کی بازگشت اکثر میڈیا میں سنی گئی ہے اور جدید دور کے خودکش حملہ آوروں کو قلعہ الموت کے فدائیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
کئی ناولوں، کہانیوں، نظموں کے علاوہ حسن الصباح کے فدائی اور ان کی جنت آج کی مشہور ویڈیو گیم 'اسیسنز کریڈ' میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اس کا شمار دنیا کی مقبول ترین گیمز میں ہوتا ہے اور اب تک اس کی دس کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
سنہ 2016ء میں اس ویڈیو گیم پر مبنی ایک فلم بنائی گئی جس نے 24/ کروڑ ڈالر سے زیادہ کا بزنس کیا۔
قلعۂ الموت میں حسن الصباح کی زندگی کا یہی وہ دور ہے جو بعد میں آنے والی صدیوں میں اساطیری حیثیت اختیار کر گیا۔ انھیں عام طور پر شیخ الجبال (Old Man of the Mountain) کہا جاتا ہے۔ مشہور ہے کہ انھوں نے اس قلعے میں ایک مصنوعی جنت قائم کر رکھی تھی جس کی ایک جھلک نوجوانوں کو دکھا کر انھیں سلاطین، وزرا، مذہبی رہنماؤں اور دوسری سرکردہ شخصیات کے قتل کے لیے آمادہ کیا جاتا تھا۔
مخالفین کی نظر میں یہ لوگ دہشت گرد تھے، لیکن خود حسن الصباح اور ان کے حامیوں کے نزدیک یہ فدائی تھے جنھیں مقصد کے حصول کی خاطر جانیں قربان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ قلعہ الموت میں ایسے تمام فدائیوں کے نام ایک قسم کے 'رول آف آنر' میں داخل کیے جاتے تھے اور انھیں شہید کا درجہ دیا جاتا تھا۔
یہ کہانی مشہور کرنے میں سب سے نمایاں کردار مارکو پولو نے ادا کیا۔ یہ وہ اطالوی سیاح تھا جس کا سفرنامہ دنیا کی مشہور ترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں مارکو پولو نے لکھا ہے:
'شیخ الجبال نے دو پہاڑوں کے درمیان واقع وادی میں ایک وسیع و عریض اور خوشنما باغ بنوایا ہے جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اس میں ہر قسم کے پھل پائے جاتے ہیں اور تصور سے باہر حسین محلات اور خیمے ہیں جن پر سونے کے ورق چڑھے ہیں اور ان میں نفیس تصاویر ہیں۔ اس باغ میں چھوٹی چھوٹی ندیاں ہیں جن میں شراب، دودھ، شہد اور پانی بہتا ہے، اور یہاں دنیا کی حسین ترین دوشیزائیں ہیں جو ہر طرح کے ساز بجاتی ہیں اور وہ حسین نغمے گاتی ہیں اور دل لبھانے والے رقص کرتی ہیں۔'
مارکو پولو مزید لکھتے ہیں کہ 12/ سے 20/ برس عمر کے نوجوانوں کو نشہ پلا کر اس باغ میں لایا جاتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنت میں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بعد جب انھیں بے ہوش کر کے اس فردوسِ بریں سے نکالا جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر کسی کو بھی قتل کرنے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
مارکو پولو کا سفرنامہ اپنے دور کا 'بیسٹ سیلر' ثابت ہوا اور اس کی وساطت سے یہ کہانیاں یورپ بھر میں پھیل گئیں، جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جاتی ہیں۔
اس دوران کسی نے یہ نہ سوچا کہ مارکو پولو جب 1272ء میں چین جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرے، تب حسن الصباح کو فوت ہوئے تقریباً ڈیڑھ صدی اور منگولوں کے ہاتھوں قلعۂ الموت کو تباہ ہوئے 15/ برس گزر چکے تھے۔
دوسری طرف کچھ جدید مورخین نے کہا ہے کہ مارکو پولو چین تو کجا، ترکی سے آگے تک گئے ہی نہیں تھے اور انھوں نے ساری کہانیاں استنبول میں بیٹھ کر سیاحوں اور ملاحوں سے سن سنا کر لکھ ڈالیں۔
الموت کے محاصرے کو رشید الدین ہمدانی نے اس طرح پیش کیا ہے. لیکن یہ افسانہ مارکو پولو کی ایجاد نہیں ہے۔ اس زمانے میں حسن الصباح اور قلعہ الموت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش میں تھیں، انھوں نے کہیں سے ایسی ہی کوئی اڑتی اڑتی خبر سن کر اسے تحریر کر دیا جس کے بعد یہ کہانی دنیا بھر میں 'وائرل' ہو گئی۔
ہم نے ہلاکو خان کے درباری مورخ عطا ملک جوینی کی 'تاریخِ جہاں گشا' کا ذکر کیا تھا۔ جوینی حسن الصباح اور اسماعیلیوں کے سخت دشمن تھے، اس لیے ان سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان سے کسی قسم کی رو رعایت برتیں گے۔
ہلاکو خان نے جب 1256ء میں قلعہ الموت فتح کیا تو جوینی ان کے ساتھ قلعے پہنچے۔ وہ بڑی تفصیل سے حسن الصباح کے حالاتِ زندگی، ان کے نظریات، الموت کی تاریخ، وہاں کے حکمرانوں، عمارات، طرزِ تعمیر اور کتب خانوں کا احوال بیان کرتے ہیں، لیکن ان کی کتاب میں کہیں بھی کسی جنت یا اس کے آثار کا ذکر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
ہم اس دور کے ایک اور مشہور تاریخ دان رشید الدین ہمدانی کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کی سنہ 1307ء میں مکمل ہونے والی کتاب 'جامع التواریخ' کو اس دور کے ایرانی تاریخ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے، مگر وہ بھی حسن الصباح اور قلعہ الموت کا تفصیلی ذکر کرنے کے باوجود وہاں کسی جنت کے وجود سے واقف نہیں ہیں۔
'شیخ الجبال' کے بارے میں کئی اور کہانیاں، روایتیں اور افسانے بھی گردش میں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دن کسی ملک کا سفیر الموت آیا ہوا تھا اور اس نے اپنے حکمران کی کیل کانٹے سے لیس فوجوں کی ہیبت کے بارے میں ڈینگیں مارنا شروع کر دیں۔ حسن الصباح نے کہا، 'ٹھیرو، میں تمھیں دکھاتا ہوں کہ اصل سپاہی کیا ہوتا ہے۔'
وہ اسی وقت سفیر کو قلعے کی چھت پر لے گئے اور وہاں تعینات دو محافظوں میں سے ایک سے کہا کہ 'چھت سے کود جاؤ،' اور دوسرے کو حکم دیا، 'اپنا خنجر نکال کر اپنے دل میں پیوست کر دو۔' کہا جاتا ہے کہ جب ایک محافظ بلا چوں و چرا قلعے کی بلند فصیل سے کود گیا اور دوسرے نے خنجر اپنے سینے میں گھونپ دیا تو سفیر پر وہی ہیبت طاری ہو گئی جو اس نے اپنی زبردست فوج کے ذکر سے حسن پر طاری کرنا چاہی تھی۔
یہ بھی مشہور ہے کہ انگریزی کا لفظ assassin یعنی اہم شخصیات کا قاتل بھی حسن الصباح ہی کے اس دور کی پیداوار ہے کہ کیوں کہ وہ اور بعد میں آنے والے ان کے جانشین فدائیوں کو حشیش (یعنی چرس) کے نشے میں دھت کروا کر قاتلانہ مہمات پر بھیجا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو حشیش کی نسبت سے حشاشین کہا جاتا تھا، جو مغرب میں پہنچ کر اسیسن بن گیا۔
تاریخ کی کسی کتاب ہم عصر میں اس بات کے شواہد نہیں ملتے کہ حسن الصباح یا ان کے پیروکار کسی قسم کی نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے تھے۔ معروف تاریخ دان برنارڈ لیوس کے مطابق اس دور کے اسماعیلیوں کے لیے لفظ 'حشاشیہ' (حشیش پینے والا) کی اصطلاح دراصل اس لیے استعمال ہوتی تھی کہ دوسروں کو ان کے خیالات بہکے بہکے لگتے تھے، نہ کہ خود حشیش پینے کے باعث۔
جب حسن الصباح نے اپنے دو پیروکاروں کو حکم دیا تو انھوں نے فوراً تعمیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو مار ڈالا.
حسن الصباح بےحد ذہین سیاسی رہنما اور منتظم تھے۔ ان کے سیاسی و نظریاتی مقاصد کے حصول کے لیے نظریہ بھی درکار تھا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے تنظیم بھی۔ انھوں نے یہ دونوں کام کر دکھائے۔
ان کی کٹر انصاف پسندی کی مثال یہ پیش کی جاتی ہے کہ جب قانون کا معاملہ آیا تو انھوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی نہیں بخشا، ایک کو شراب پینے کی پاداش میں اور دوسرے کو قتل کے جرم میں مروا ڈالا۔
حسن الصباح کا انتقال 12/ جون 1124ء کو ہوا۔ چونکہ ان کی نرینہ اولاد زندہ نہیں بچی تھی، اس لیے انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے ایک وفادار داعی کِیا بزرگ امید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا جنھوں نے ایک عرصہ قلعۂ الموت پر حکومت کی۔ یہ سلسلہ 1256ء تک چلتا رہا، تاوقتیکہ منگول حکمران ہلاکو خان نے الموت کو فتح کر کے اس نزاری اسماعیلی ریاست کا خاتمہ کر ڈالا۔
حسن الصباح کی زندگی اس لحاظ سے بےحد دلچسپ ہے کہ اس پر طرح طرح کے افسانوں کی دبیز دھند چھائی ہوئی ہے جس میں ان کی اصل شخصیت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ زمانے کی یہ ستم ظریفی بھی دیکھیے کہ اس نے ان کا اصل نام بھی بدل کر حسن بن صباح مشہور ہو گیا، حالانکہ ان کے والد کا نام صباح نہیں بلکہ علی تھا۔
تاہم اساطیری دھند کے پردے چاک کر کے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کی تصویر سامنے آتی ہے جو صاحب میدان بھی تھا اور صاحبِ کتاب بھی، جنھوں نے نہ صرف زبردست عسکری و سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ علمی و عقلی میدان میں بھی ان کا شمار اپنے دور کے اہم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اس کا اعتراف ان کے بدترین مخالفین نے بھی کیا ہے۔
ہم جماعت والی روایت کو نظر انداز بھی کر دیں تب بھی حسن الصباح اور عمر خیام میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں ایران میں ایک ہی عشرے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لگ بھگ ایک جیسی عمریں بھی پائیں اور دونوں نے کچھ عرصہ اصفہان میں گزارا۔ اس لیے یہ مزیدار امکان بہرحال موجود ہے کہ دونوں کی ملاقات رہی ہو، آخر کو ان کے کئی علمی مشاغل اور دلچسپیاں ایک جیسی تھیں۔ لیکن ان سے بھی گہری ایک اور مماثلت ہے۔ حسن الصباح، جو دینی عالم اور فوجی کمانڈر تھے، رہتی دنیا تک ایک ایسی مصنوعی جنت کے خالق کی حیثیت سے جانے جائیں گے جہاں شراب کی نہریں بہتی تھیں اور شباب ہر سو جلوہ افروز ہوتا تھا۔
دوسری طرف عمر خیام، جو دراصل ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات تھے، انھیں شراب و شباب اور باغات سے متعلق ایسی رباعیات کا خالق سمجھا جائے گا جو انھوں نے نہیں لکھیں۔
ایرانی محقق صادق ہدایت کی تحقیق کے مطابق خیام سے منسوب سینکڑوں رباعیوں میں سے صرف آٹھ یا دس ایسی ہیں جن کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیام کے قلم سے نکلی ہیں، باقی اللہ اللہ خیر سلا۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں ہم عصروں کے سر ایک ایک 'جنت' تھوپ دی گئی جس کا ان دونوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
بشکریہ
ظفر سید
بی بی سی اردو، اسلام آباد
لنک:
https://www.bbc.com/urdu/world-44403178حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟
حسین نے نہایت ہی جوش و حیرت سے دیکھا کہ انہی چمنوں میں جا بہ جا نہروں کے کنارے کنارے سونے چاندی کے تخت بچھے ہیں جن پر ریشمی پھول دار کپڑوں کا فرش ہے۔
'لوگ پر تکلف اور طلائی گاؤ تکیوں سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں کو پہلو میں لیے بیٹھے ہیں اور جنت کی بےفکریوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ خوب صورت خوب صوت آفتِ روزگار لڑکے کہیں تو سامنے دست بستہ کھڑے ہیں اور کہیں نہایت ہی نزاکت اور دل فریب حرکتوں سے ساقی گری کرتے ہیں۔ شراب کے دور چل رہے ہیں اور گزک کے لیے سدھائے یا قدرت کے سکھائے ہوئے طیور پھل دار درختوں سے پھل توڑ توڑ کے لاتے ہیں اور ان کے سامنے رکھ کے اڑ جاتے ہیں۔'
یہ اقتباس عبدالحلیم شرر کے 1899ء میں شائع ہونے والے مشہورِ زمانہ ناول 'فردوسِ بریں' سے لیا گیا ہے جس میں وہ حسن بن صباح کی مصنوعی جنت کا ڈرامائی احوال بیان کر رہے ہیں۔
فردوسِ بریں کا شمار اردو کے مقبول ترین ناولوں میں ہوتا ہے۔ یہ آج بھی تعلیمی نصابوں کا حصہ ہے اور قریب قریب ہر سکول اور کالج کی لائبریری میں مل جاتا ہے۔
مغرب میں بھی اس ناول کو خاصی پذیرائی ملی۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور 2016ء میں یورپ کے کئی شہروں میں اسی ناول پر مبنی تھیئٹر ڈرامے دکھائے گئے جنھیں ذوق و شوق سے دیکھا گیا۔
شرر اس میدان میں اکیلے نہیں ہیں۔ مشرق و مغرب میں لکھی گئی درجنوں کہانیوں، ناولوں اور افسانوں میں اس مصنوعی جنت کا ذکر ملتا ہے جس میں نوجوانوں کو نشے میں دھت کروا کر جنت کے ماڈل پر تیار کردہ باغات و محلات میں عیش و عشرت کے ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اصل جنت میں پہنچ گئے ہیں، پھر انھیں بےہوش کرکے باہر لے جایا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بڑی شخصیت کو قتل کر دیں تو انھیں دوبارہ اسی جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔
مشہور ہے کہ ایسی ہی جنت 12/ ویں صدی میں ایران کے علاقے رودبار کے قلعۂ الموت میں حسن بن صباح نے قائم کی تھی جہاں وہ نوجوانوں کو ورغلا کر انھیں حکمرانوں، علما اور دوسرے مخالفین کے قتل کے لیے بھیجتے تھے۔
یہ حسن بن صباح کون تھے اور ان سے وابستہ ان حیرت انگیز دیومالائی کہانیوں میں کس حد تک صداقت ہے؟
ان کا اصل نام حسن الصباح تھا اور وہ 1050ء کی دہائی میں ایرانی شہر قم میں ایک عرب شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ لڑکپن ہی میں ان کے والد اس زمانے کے علمی گڑھ 'رے' چلے گئے۔ یہاں نوجوان حسن نے رائج علوم میں تیزی سے مہارت حاصل کرنا شروع کی۔
اپنی آپ بیتی 'سرگزشتِ سیدنا' (جس کے صرف چند ٹکڑے ہی باقی بچے ہیں) میں وہ لکھتے ہیں:
'سات برس کی عمر سے مجھے علوم کی مختلف شاخوں سے گہرا لگاؤ تھا اور میں مذہبی رہنما بننا چاہتا تھا۔ 17 سال کی عمر تک میں نے خاصا علم حاصل کر لیا تھا۔'
علوم کی یہ شاخیں دینیات کے علاوہ فلکیات، علمِ ہندسہ (جیومیٹری)، منطق اور ریاضی تھیں۔
اسی دوران ان کی ملاقات امیرہ زراب نامی اسماعیلی داعی سے ہوئی جنھوں نے نوجوان حسن کے زرخیز دماغ کے لیے بارش کا سا کام کیا۔ حسن ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ اسماعیلی ہو گئے۔
یہاں ہمارا سامنا ایک دلچسپ روایت سے ہوتا ہے جس کا ذکر ایڈورڈ فٹزجیرلڈ نے عمر خیام کی رباعیات کے ترجمے کے دیباچے میں بھی کیا ہے۔ قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حسن الصباح، مشہور شاعر، ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان عمر خیام، اور نظام الملک طوسی تینوں اس دور کے مشہور عالم امام موفق کے شاگرد تھے اور انھوں نے ایک دن مل کر عہد کیا تھا کہ جو کوئی پہلے کسی بڑے عہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرے گا وہ دوسروں کو نوازے گا۔
ہوا یوں کہ نظام الملک طاقتور سلجوق سلطان الپ ارسلان کے وزیراعظم بن گئے اور انھوں نے لڑکپن کے وعدے کو وفا کرتے حسن الصباح اور عمر خیام کو بڑے بڑے عہدے دینے کی پیشکش کی، البتہ دونوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر انھیں رد کر دیا۔
یہ کہانی ہے تو بڑی مزیدار، لیکن کیا یہ سچائی پر مبنی ہے؟ نظام الملک 1018ء میں پیدا ہوئے تھے، جب کہ حسن الصباح کا سال پیدائش 1050ء کے لگ بھگ ہے، جس کا مطلب ہے کہ نظام حسن سے 32 سال بڑے تھے۔
مزید یہ کہ 1059ء میں، یعنی جب حسن کی عمر نو سال کے قریب ہو گی، نظام الملک صوبہ خراسان کے گورنر بن کر پہلے ہی 'بڑے عہدے' تک پہنچ چکے تھے اس لیے یہ قرینِ قیاس نہیں ہے کہ وہ رے کے کسی نوعمر لڑکے کے ہم جماعت ہوں اور اس کے ساتھ کسی عہد نامے میں شریک ہوں۔
اس زمانے میں مصر پر فاطمی خاندان کی حکومت تھی جو اسماعیلی تھے۔ قاہرہ کی جامعہ الازہر انھی نے قائم کی تھی۔ حسن 1078ء میں مختلف ملکوں میں پھرتے پھراتے قاہرہ پہنچ گئے جہاں ان کے افسانے پہلے ہی سے پہنچ چکے تھے، چنانچہ فاطمی دربار میں ان کی بڑی آؤ بھگت ہوئی۔
حسن نے مصر میں تین سال گزارے لیکن اس دوران فاطمیوں کے سپہ سالار بدر الجمالی حسن کے مخالف ہو گئے اور انھیں زنداں میں ڈال دیا گیا۔ اتفاق سے زنداں کا مینار گر پڑا۔ اس واقعے کو حسن کی کرامت سمجھا گیا اور انھیں باعزت رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد حسن نے مصر میں مزید قیام مناسب نہیں سمجھا۔ وہ ایران لوٹ آئے اور اگلے نو برسوں تک مختلف علاقوں میں دعوت و تبلیغ میں مگن رہے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اپنی توجہ رودبار صوبے کے علاقے دیلمان پر مرکوز کرنا شروع کر دی۔ یہاں انھیں کوہ البرز کی برفانی چوٹیوں میں گھرا ہوا ایک قلعہ نظر آیا جو ان کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو سکتا تھا۔
یہ قلعہ الموت تھا۔
بظاہر تو لگتا ہے کہ اس قلعے کا نام موت یعنی مرنے سے متعلق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ الموت مقامی زبان کے الفاظ 'الا' اور 'آموت' سے نکلا ہے۔ دیلمانی زبان میں الا عقاب ہے اور آموت (فارسی میں آموخت) کا مطلب ہے سیکھنا۔ روایت مشہور ہے کہ اس علاقے کا حکمران وہاں شکار کھیل رہا تھا کہ اسے ایک پہاڑی پر عقاب اترتا ہوا دکھائی دیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس مقام کا جغرافیہ اس قسم کا ہے کہ اگر یہاں قلعہ بنایا جائے تو وہ ناقابلِ شکست ثابت ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے یہاں قلعہ تعمیر کروایا اور اس کا نام الموت پڑ گیا، یعنی 'عقاب کا سکھایا ہوا۔'
ہلاکو خان کے درباری مورخ عطا ملک جوینی نے، جن کا تفصیلی ذکر آگے چل کر آئے گا، اس قلعے کا دورہ کیا تھا۔ وہ اپنی کتاب 'تاریخِ جہاں گشا' میں لکھتے ہیں: 'الموت ایک ایسے پہاڑ پر واقع ہے جس کی شکل گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اونٹ کی مانند ہے۔ قلعہ جس چٹان پر تعمیر کیا گیا ہے اس کے چاروں طرف ڈھلوانیں ہیں، صرف ایک تنگ راستہ ہے جس کا بڑی آسانی سے دفاع کیا جا سکتا ہے۔'
حسن نے قلعہ الموت کے آس پاس کے علاقے میں ڈیرے ڈال دیے۔ ان کا پیغام زور پکڑتا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خود قلعے کے اندر ان کے حواریوں کی اتنی اکثریت ہو گئی کہ قلعہ دار حسین مہدی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ قلعے کا اختیار حسن کے حوالے کر کے وہاں سے رخصت ہو جائے۔ یہ واقعہ سنہ 1090ء کا ہے۔
اب حسن الصباح نے قلعہ الموت کو اپنا مرکز بنا کر آس پاس کے وسیع علاقے میں اپنا پیغام پھیلانے کا کام شروع کر دیا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ آس پاس کے کئی قلعے ان کے قبضے میں آ گئے جن میں سے کچھ کو خریدا گیا، کچھ پر بزور قبضہ کیا گیا اور کچھ ایسے تھے جس کے لوگوں نے دعوت سے متاثر ہو کر خود اپنے دروازے کھول دیے۔
قصہ مختصر چند برسوں کے اندر تقریباً تمام رودبار اور پڑوسی علاقوں میں حسن کی عملداری قائم ہو گئی۔
ان کے انہماک و ارتکاز کا یہ عالم تھا کہ وہ الموت میں آ جانے کے بعد 35 برس تک قلعے سے باہر نہیں گئے، بلکہ اپنے گھر سے بھی صرف دو بار باہر نکلے۔ تاریخ دان رشید الدین ہمدانی 'جامع التواریخ' میں لکھتے ہیں کہ 'وہ اپنی موت تک اپنے گھر ہی میں رہے جہاں وہ اپنا وقت مطالعے، دعوت تحریر کرنے، اپنی عملداری کا نظم و نسق چلانے میں گزارتے رہے۔'
سلجوق سلطان ملک شاہ نے اپنے دورافتادہ سرحدی علاقے چھن جانے کی خبر سن کر حسن الصباح کی سرکوبی کے لیے 1092ء میں ایک لشکر بھیجا جس نے الموت کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ قلعہ ناقابلِ تسخیر تھا، دوسری طرف آس پاس کے علاقوں سے حسن کے ماننے والوں نے کچوکے لگا لگا کر شاہی لشکر کو اس قدر زچ کیا کہ اسے چار ماہ کے بعد اپنا سا منھ لے کر لوٹتے ہی بنی۔
الموت کے محاصرے کے چند ماہ بعد 16/ اکتوبر 1192ء کو سلجوق سلطان کے وزیرِ اعظم اور حسن الصباح کے میبنہ ہم جماعت نظام الملک نہاوند ضلعے میں سفر کر رہے تھے کہ دیلمان کے علاقے کا ایک نوجوان، جس نے فقیروں کا بھیس بدلا ہوا تھا، ان کے قریب پہنچا اور اپنے چغے سے خنجر نکال کر ان پر وار کر دیا۔
رشید الدین ہمدانی کے مطابق حسن الصباح کو معلوم ہوا تھا کہ الموت پر سلجوقیوں کے حملے کے پیچھے دراصل نظام الملک کا ہاتھ تھا۔ انھوں نے ایک دن اپنے فدائیوں سے کہا: 'تم میں سے کون ہے جو اس ملک کو نظام الملک طوسی کے فتنے سے پاک کر سکے؟'
ایک نوجوان بو طاہر آرانی نامی نے ہاتھ بلند کیا اور بعد میں جا کر شیخ الجبال کے فرمان پر عمل کر ڈالا اور اس دوران خود بھی نظام الملک کے محافظوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہ حسن الصباح کی مہم کا پہلا 'خودکش' حملہ تھا۔
ظاہر ہے کہ سیاسی قتل حسن کی ایجاد نہیں تھا کہ یہ عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ۔ لیکن جس منظم طریقے سے اور جس وسیع پیمانے پر حسن نے اسے بطور آلہ استعمال کیا، اس کی وجہ سے ان کا نام اس سے منسلک ہو کر رہ گیا ہے۔
حسن کو معلوم تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ کبھی بھی سلجوقوں اور دوسرے طاقتور دشمن حکمرانوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ اس صورتِ حال میں انھوں نے وہ تکینک استعمال کی کہ بجائے ہزاروں کی تعداد میں فوجوں کا میدانِ جنگ میں دوبدو مقابلہ کیا جائے، بہتر یہی ہے کہ اپنے کسی جانثار فدائی کی تربیت کر کے اس کے ہاتھوں کسی حکمران، خطرناک وزیر، سپہ سالار یا مخالف مذہبی عالم کو قتل کروا دیا جائے۔
یہ طریقہ حیرت انگیز طور پر کامیاب ثابت ہوا۔ طوسی کے بعد حسن کے فدائین کے نشانے پر کئی حکمران، شہزادے، گورنر، جرنیل، اور علما بنے، اور ان کی دہشت نزدیک و دور تک پھیل گئی۔ کئی اہم شخصیات کسی بھی اجنبی سے ملنے سے کترانے لگے اور دوسرے اپنے لباس کے نیچے احتیاطاً زرۂ بکتر پہننے لگے۔
پچھلے چند عشروں کے دوران خودکش حملہ آوروں کی لہر کے بعد حسن الصباح کے نام کی بازگشت اکثر میڈیا میں سنی گئی ہے اور جدید دور کے خودکش حملہ آوروں کو قلعہ الموت کے فدائیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
کئی ناولوں، کہانیوں، نظموں کے علاوہ حسن الصباح کے فدائی اور ان کی جنت آج کی مشہور ویڈیو گیم 'اسیسنز کریڈ' میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اس کا شمار دنیا کی مقبول ترین گیمز میں ہوتا ہے اور اب تک اس کی دس کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
سنہ 2016ء میں اس ویڈیو گیم پر مبنی ایک فلم بنائی گئی جس نے 24/ کروڑ ڈالر سے زیادہ کا بزنس کیا۔
قلعۂ الموت میں حسن الصباح کی زندگی کا یہی وہ دور ہے جو بعد میں آنے والی صدیوں میں اساطیری حیثیت اختیار کر گیا۔ انھیں عام طور پر شیخ الجبال (Old Man of the Mountain) کہا جاتا ہے۔ مشہور ہے کہ انھوں نے اس قلعے میں ایک مصنوعی جنت قائم کر رکھی تھی جس کی ایک جھلک نوجوانوں کو دکھا کر انھیں سلاطین، وزرا، مذہبی رہنماؤں اور دوسری سرکردہ شخصیات کے قتل کے لیے آمادہ کیا جاتا تھا۔
مخالفین کی نظر میں یہ لوگ دہشت گرد تھے، لیکن خود حسن الصباح اور ان کے حامیوں کے نزدیک یہ فدائی تھے جنھیں مقصد کے حصول کی خاطر جانیں قربان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ قلعہ الموت میں ایسے تمام فدائیوں کے نام ایک قسم کے 'رول آف آنر' میں داخل کیے جاتے تھے اور انھیں شہید کا درجہ دیا جاتا تھا۔
یہ کہانی مشہور کرنے میں سب سے نمایاں کردار مارکو پولو نے ادا کیا۔ یہ وہ اطالوی سیاح تھا جس کا سفرنامہ دنیا کی مشہور ترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں مارکو پولو نے لکھا ہے:
'شیخ الجبال نے دو پہاڑوں کے درمیان واقع وادی میں ایک وسیع و عریض اور خوشنما باغ بنوایا ہے جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اس میں ہر قسم کے پھل پائے جاتے ہیں اور تصور سے باہر حسین محلات اور خیمے ہیں جن پر سونے کے ورق چڑھے ہیں اور ان میں نفیس تصاویر ہیں۔ اس باغ میں چھوٹی چھوٹی ندیاں ہیں جن میں شراب، دودھ، شہد اور پانی بہتا ہے، اور یہاں دنیا کی حسین ترین دوشیزائیں ہیں جو ہر طرح کے ساز بجاتی ہیں اور وہ حسین نغمے گاتی ہیں اور دل لبھانے والے رقص کرتی ہیں۔'
مارکو پولو مزید لکھتے ہیں کہ 12/ سے 20/ برس عمر کے نوجوانوں کو نشہ پلا کر اس باغ میں لایا جاتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنت میں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بعد جب انھیں بے ہوش کر کے اس فردوسِ بریں سے نکالا جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر کسی کو بھی قتل کرنے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
مارکو پولو کا سفرنامہ اپنے دور کا 'بیسٹ سیلر' ثابت ہوا اور اس کی وساطت سے یہ کہانیاں یورپ بھر میں پھیل گئیں، جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جاتی ہیں۔
اس دوران کسی نے یہ نہ سوچا کہ مارکو پولو جب 1272ء میں چین جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرے، تب حسن الصباح کو فوت ہوئے تقریباً ڈیڑھ صدی اور منگولوں کے ہاتھوں قلعۂ الموت کو تباہ ہوئے 15/ برس گزر چکے تھے۔
دوسری طرف کچھ جدید مورخین نے کہا ہے کہ مارکو پولو چین تو کجا، ترکی سے آگے تک گئے ہی نہیں تھے اور انھوں نے ساری کہانیاں استنبول میں بیٹھ کر سیاحوں اور ملاحوں سے سن سنا کر لکھ ڈالیں۔
الموت کے محاصرے کو رشید الدین ہمدانی نے اس طرح پیش کیا ہے. لیکن یہ افسانہ مارکو پولو کی ایجاد نہیں ہے۔ اس زمانے میں حسن الصباح اور قلعہ الموت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش میں تھیں، انھوں نے کہیں سے ایسی ہی کوئی اڑتی اڑتی خبر سن کر اسے تحریر کر دیا جس کے بعد یہ کہانی دنیا بھر میں 'وائرل' ہو گئی۔
ہم نے ہلاکو خان کے درباری مورخ عطا ملک جوینی کی 'تاریخِ جہاں گشا' کا ذکر کیا تھا۔ جوینی حسن الصباح اور اسماعیلیوں کے سخت دشمن تھے، اس لیے ان سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان سے کسی قسم کی رو رعایت برتیں گے۔
ہلاکو خان نے جب 1256ء میں قلعہ الموت فتح کیا تو جوینی ان کے ساتھ قلعے پہنچے۔ وہ بڑی تفصیل سے حسن الصباح کے حالاتِ زندگی، ان کے نظریات، الموت کی تاریخ، وہاں کے حکمرانوں، عمارات، طرزِ تعمیر اور کتب خانوں کا احوال بیان کرتے ہیں، لیکن ان کی کتاب میں کہیں بھی کسی جنت یا اس کے آثار کا ذکر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
ہم اس دور کے ایک اور مشہور تاریخ دان رشید الدین ہمدانی کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کی سنہ 1307ء میں مکمل ہونے والی کتاب 'جامع التواریخ' کو اس دور کے ایرانی تاریخ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے، مگر وہ بھی حسن الصباح اور قلعہ الموت کا تفصیلی ذکر کرنے کے باوجود وہاں کسی جنت کے وجود سے واقف نہیں ہیں۔
'شیخ الجبال' کے بارے میں کئی اور کہانیاں، روایتیں اور افسانے بھی گردش میں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دن کسی ملک کا سفیر الموت آیا ہوا تھا اور اس نے اپنے حکمران کی کیل کانٹے سے لیس فوجوں کی ہیبت کے بارے میں ڈینگیں مارنا شروع کر دیں۔ حسن الصباح نے کہا، 'ٹھیرو، میں تمھیں دکھاتا ہوں کہ اصل سپاہی کیا ہوتا ہے۔'
وہ اسی وقت سفیر کو قلعے کی چھت پر لے گئے اور وہاں تعینات دو محافظوں میں سے ایک سے کہا کہ 'چھت سے کود جاؤ،' اور دوسرے کو حکم دیا، 'اپنا خنجر نکال کر اپنے دل میں پیوست کر دو۔' کہا جاتا ہے کہ جب ایک محافظ بلا چوں و چرا قلعے کی بلند فصیل سے کود گیا اور دوسرے نے خنجر اپنے سینے میں گھونپ دیا تو سفیر پر وہی ہیبت طاری ہو گئی جو اس نے اپنی زبردست فوج کے ذکر سے حسن پر طاری کرنا چاہی تھی۔
یہ بھی مشہور ہے کہ انگریزی کا لفظ assassin یعنی اہم شخصیات کا قاتل بھی حسن الصباح ہی کے اس دور کی پیداوار ہے کہ کیوں کہ وہ اور بعد میں آنے والے ان کے جانشین فدائیوں کو حشیش (یعنی چرس) کے نشے میں دھت کروا کر قاتلانہ مہمات پر بھیجا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو حشیش کی نسبت سے حشاشین کہا جاتا تھا، جو مغرب میں پہنچ کر اسیسن بن گیا۔
تاریخ کی کسی کتاب ہم عصر میں اس بات کے شواہد نہیں ملتے کہ حسن الصباح یا ان کے پیروکار کسی قسم کی نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے تھے۔ معروف تاریخ دان برنارڈ لیوس کے مطابق اس دور کے اسماعیلیوں کے لیے لفظ 'حشاشیہ' (حشیش پینے والا) کی اصطلاح دراصل اس لیے استعمال ہوتی تھی کہ دوسروں کو ان کے خیالات بہکے بہکے لگتے تھے، نہ کہ خود حشیش پینے کے باعث۔
جب حسن الصباح نے اپنے دو پیروکاروں کو حکم دیا تو انھوں نے فوراً تعمیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو مار ڈالا.
حسن الصباح بےحد ذہین سیاسی رہنما اور منتظم تھے۔ ان کے سیاسی و نظریاتی مقاصد کے حصول کے لیے نظریہ بھی درکار تھا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے تنظیم بھی۔ انھوں نے یہ دونوں کام کر دکھائے۔
ان کی کٹر انصاف پسندی کی مثال یہ پیش کی جاتی ہے کہ جب قانون کا معاملہ آیا تو انھوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی نہیں بخشا، ایک کو شراب پینے کی پاداش میں اور دوسرے کو قتل کے جرم میں مروا ڈالا۔
حسن الصباح کا انتقال 12/ جون 1124ء کو ہوا۔ چونکہ ان کی نرینہ اولاد زندہ نہیں بچی تھی، اس لیے انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے ایک وفادار داعی کِیا بزرگ امید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا جنھوں نے ایک عرصہ قلعۂ الموت پر حکومت کی۔ یہ سلسلہ 1256ء تک چلتا رہا، تاوقتیکہ منگول حکمران ہلاکو خان نے الموت کو فتح کر کے اس نزاری اسماعیلی ریاست کا خاتمہ کر ڈالا۔
حسن الصباح کی زندگی اس لحاظ سے بےحد دلچسپ ہے کہ اس پر طرح طرح کے افسانوں کی دبیز دھند چھائی ہوئی ہے جس میں ان کی اصل شخصیت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ زمانے کی یہ ستم ظریفی بھی دیکھیے کہ اس نے ان کا اصل نام بھی بدل کر حسن بن صباح مشہور ہو گیا، حالانکہ ان کے والد کا نام صباح نہیں بلکہ علی تھا۔
تاہم اساطیری دھند کے پردے چاک کر کے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کی تصویر سامنے آتی ہے جو صاحب میدان بھی تھا اور صاحبِ کتاب بھی، جنھوں نے نہ صرف زبردست عسکری و سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ علمی و عقلی میدان میں بھی ان کا شمار اپنے دور کے اہم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اس کا اعتراف ان کے بدترین مخالفین نے بھی کیا ہے۔
ہم جماعت والی روایت کو نظر انداز بھی کر دیں تب بھی حسن الصباح اور عمر خیام میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں ایران میں ایک ہی عشرے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لگ بھگ ایک جیسی عمریں بھی پائیں اور دونوں نے کچھ عرصہ اصفہان میں گزارا۔ اس لیے یہ مزیدار امکان بہرحال موجود ہے کہ دونوں کی ملاقات رہی ہو، آخر کو ان کے کئی علمی مشاغل اور دلچسپیاں ایک جیسی تھیں۔ لیکن ان سے بھی گہری ایک اور مماثلت ہے۔ حسن الصباح، جو دینی عالم اور فوجی کمانڈر تھے، رہتی دنیا تک ایک ایسی مصنوعی جنت کے خالق کی حیثیت سے جانے جائیں گے جہاں شراب کی نہریں بہتی تھیں اور شباب ہر سو جلوہ افروز ہوتا تھا۔
دوسری طرف عمر خیام، جو دراصل ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات تھے، انھیں شراب و شباب اور باغات سے متعلق ایسی رباعیات کا خالق سمجھا جائے گا جو انھوں نے نہیں لکھیں۔
ایرانی محقق صادق ہدایت کی تحقیق کے مطابق خیام سے منسوب سینکڑوں رباعیوں میں سے صرف آٹھ یا دس ایسی ہیں جن کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیام کے قلم سے نکلی ہیں، باقی اللہ اللہ خیر سلا۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں ہم عصروں کے سر ایک ایک 'جنت' تھوپ دی گئی جس کا ان دونوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
بشکریہ
ظفر سید
بی بی سی اردو، اسلام آباد
لنک:
https://www.bbc.com/urdu/world-44403178حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟
حسین نے نہایت ہی جوش و حیرت سے دیکھا کہ انہی چمنوں میں جا بہ جا نہروں کے کنارے کنارے سونے چاندی کے تخت بچھے ہیں جن پر ریشمی پھول دار کپڑوں کا فرش ہے۔
'لوگ پر تکلف اور طلائی گاؤ تکیوں سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں کو پہلو میں لیے بیٹھے ہیں اور جنت کی بےفکریوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ خوب صورت خوب صوت آفتِ روزگار لڑکے کہیں تو سامنے دست بستہ کھڑے ہیں اور کہیں نہایت ہی نزاکت اور دل فریب حرکتوں سے ساقی گری کرتے ہیں۔ شراب کے دور چل رہے ہیں اور گزک کے لیے سدھائے یا قدرت کے سکھائے ہوئے طیور پھل دار درختوں سے پھل توڑ توڑ کے لاتے ہیں اور ان کے سامنے رکھ کے اڑ جاتے ہیں۔'
یہ اقتباس عبدالحلیم شرر کے 1899ء میں شائع ہونے والے مشہورِ زمانہ ناول 'فردوسِ بریں' سے لیا گیا ہے جس میں وہ حسن بن صباح کی مصنوعی جنت کا ڈرامائی احوال بیان کر رہے ہیں۔
فردوسِ بریں کا شمار اردو کے مقبول ترین ناولوں میں ہوتا ہے۔ یہ آج بھی تعلیمی نصابوں کا حصہ ہے اور قریب قریب ہر سکول اور کالج کی لائبریری میں مل جاتا ہے۔
مغرب میں بھی اس ناول کو خاصی پذیرائی ملی۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور 2016ء میں یورپ کے کئی شہروں میں اسی ناول پر مبنی تھیئٹر ڈرامے دکھائے گئے جنھیں ذوق و شوق سے دیکھا گیا۔
شرر اس میدان میں اکیلے نہیں ہیں۔ مشرق و مغرب میں لکھی گئی درجنوں کہانیوں، ناولوں اور افسانوں میں اس مصنوعی جنت کا ذکر ملتا ہے جس میں نوجوانوں کو نشے میں دھت کروا کر جنت کے ماڈل پر تیار کردہ باغات و محلات میں عیش و عشرت کے ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اصل جنت میں پہنچ گئے ہیں، پھر انھیں بےہوش کرکے باہر لے جایا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بڑی شخصیت کو قتل کر دیں تو انھیں دوبارہ اسی جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔
مشہور ہے کہ ایسی ہی جنت 12/ ویں صدی میں ایران کے علاقے رودبار کے قلعۂ الموت میں حسن بن صباح نے قائم کی تھی جہاں وہ نوجوانوں کو ورغلا کر انھیں حکمرانوں، علما اور دوسرے مخالفین کے قتل کے لیے بھیجتے تھے۔
یہ حسن بن صباح کون تھے اور ان سے وابستہ ان حیرت انگیز دیومالائی کہانیوں میں کس حد تک صداقت ہے؟
ان کا اصل نام حسن الصباح تھا اور وہ 1050ء کی دہائی میں ایرانی شہر قم میں ایک عرب شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ لڑکپن ہی میں ان کے والد اس زمانے کے علمی گڑھ 'رے' چلے گئے۔ یہاں نوجوان حسن نے رائج علوم میں تیزی سے مہارت حاصل کرنا شروع کی۔
اپنی آپ بیتی 'سرگزشتِ سیدنا' (جس کے صرف چند ٹکڑے ہی باقی بچے ہیں) میں وہ لکھتے ہیں:
'سات برس کی عمر سے مجھے علوم کی مختلف شاخوں سے گہرا لگاؤ تھا اور میں مذہبی رہنما بننا چاہتا تھا۔ 17 سال کی عمر تک میں نے خاصا علم حاصل کر لیا تھا۔'
علوم کی یہ شاخیں دینیات کے علاوہ فلکیات، علمِ ہندسہ (جیومیٹری)، منطق اور ریاضی تھیں۔
اسی دوران ان کی ملاقات امیرہ زراب نامی اسماعیلی داعی سے ہوئی جنھوں نے نوجوان حسن کے زرخیز دماغ کے لیے بارش کا سا کام کیا۔ حسن ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ اسماعیلی ہو گئے۔
یہاں ہمارا سامنا ایک دلچسپ روایت سے ہوتا ہے جس کا ذکر ایڈورڈ فٹزجیرلڈ نے عمر خیام کی رباعیات کے ترجمے کے دیباچے میں بھی کیا ہے۔ قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حسن الصباح، مشہور شاعر، ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان عمر خیام، اور نظام الملک طوسی تینوں اس دور کے مشہور عالم امام موفق کے شاگرد تھے اور انھوں نے ایک دن مل کر عہد کیا تھا کہ جو کوئی پہلے کسی بڑے عہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرے گا وہ دوسروں کو نوازے گا۔
ہوا یوں کہ نظام الملک طاقتور سلجوق سلطان الپ ارسلان کے وزیراعظم بن گئے اور انھوں نے لڑکپن کے وعدے کو وفا کرتے حسن الصباح اور عمر خیام کو بڑے بڑے عہدے دینے کی پیشکش کی، البتہ دونوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر انھیں رد کر دیا۔
یہ کہانی ہے تو بڑی مزیدار، لیکن کیا یہ سچائی پر مبنی ہے؟ نظام الملک 1018ء میں پیدا ہوئے تھے، جب کہ حسن الصباح کا سال پیدائش 1050ء کے لگ بھگ ہے، جس کا مطلب ہے کہ نظام حسن سے 32 سال بڑے تھے۔
مزید یہ کہ 1059ء میں، یعنی جب حسن کی عمر نو سال کے قریب ہو گی، نظام الملک صوبہ خراسان کے گورنر بن کر پہلے ہی 'بڑے عہدے' تک پہنچ چکے تھے اس لیے یہ قرینِ قیاس نہیں ہے کہ وہ رے کے کسی نوعمر لڑکے کے ہم جماعت ہوں اور اس کے ساتھ کسی عہد نامے میں شریک ہوں۔
اس زمانے میں مصر پر فاطمی خاندان کی حکومت تھی جو اسماعیلی تھے۔ قاہرہ کی جامعہ الازہر انھی نے قائم کی تھی۔ حسن 1078ء میں مختلف ملکوں میں پھرتے پھراتے قاہرہ پہنچ گئے جہاں ان کے افسانے پہلے ہی سے پہنچ چکے تھے، چنانچہ فاطمی دربار میں ان کی بڑی آؤ بھگت ہوئی۔
حسن نے مصر میں تین سال گزارے لیکن اس دوران فاطمیوں کے سپہ سالار بدر الجمالی حسن کے مخالف ہو گئے اور انھیں زنداں میں ڈال دیا گیا۔ اتفاق سے زنداں کا مینار گر پڑا۔ اس واقعے کو حسن کی کرامت سمجھا گیا اور انھیں باعزت رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد حسن نے مصر میں مزید قیام مناسب نہیں سمجھا۔ وہ ایران لوٹ آئے اور اگلے نو برسوں تک مختلف علاقوں میں دعوت و تبلیغ میں مگن رہے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اپنی توجہ رودبار صوبے کے علاقے دیلمان پر مرکوز کرنا شروع کر دی۔ یہاں انھیں کوہ البرز کی برفانی چوٹیوں میں گھرا ہوا ایک قلعہ نظر آیا جو ان کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو سکتا تھا۔
یہ قلعہ الموت تھا۔
بظاہر تو لگتا ہے کہ اس قلعے کا نام موت یعنی مرنے سے متعلق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ الموت مقامی زبان کے الفاظ 'الا' اور 'آموت' سے نکلا ہے۔ دیلمانی زبان میں الا عقاب ہے اور آموت (فارسی میں آموخت) کا مطلب ہے سیکھنا۔ روایت مشہور ہے کہ اس علاقے کا حکمران وہاں شکار کھیل رہا تھا کہ اسے ایک پہاڑی پر عقاب اترتا ہوا دکھائی دیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس مقام کا جغرافیہ اس قسم کا ہے کہ اگر یہاں قلعہ بنایا جائے تو وہ ناقابلِ شکست ثابت ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے یہاں قلعہ تعمیر کروایا اور اس کا نام الموت پڑ گیا، یعنی 'عقاب کا سکھایا ہوا۔'
ہلاکو خان کے درباری مورخ عطا ملک جوینی نے، جن کا تفصیلی ذکر آگے چل کر آئے گا، اس قلعے کا دورہ کیا تھا۔ وہ اپنی کتاب 'تاریخِ جہاں گشا' میں لکھتے ہیں: 'الموت ایک ایسے پہاڑ پر واقع ہے جس کی شکل گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اونٹ کی مانند ہے۔ قلعہ جس چٹان پر تعمیر کیا گیا ہے اس کے چاروں طرف ڈھلوانیں ہیں، صرف ایک تنگ راستہ ہے جس کا بڑی آسانی سے دفاع کیا جا سکتا ہے۔'
حسن نے قلعہ الموت کے آس پاس کے علاقے میں ڈیرے ڈال دیے۔ ان کا پیغام زور پکڑتا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خود قلعے کے اندر ان کے حواریوں کی اتنی اکثریت ہو گئی کہ قلعہ دار حسین مہدی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ قلعے کا اختیار حسن کے حوالے کر کے وہاں سے رخصت ہو جائے۔ یہ واقعہ سنہ 1090ء کا ہے۔
اب حسن الصباح نے قلعہ الموت کو اپنا مرکز بنا کر آس پاس کے وسیع علاقے میں اپنا پیغام پھیلانے کا کام شروع کر دیا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ آس پاس کے کئی قلعے ان کے قبضے میں آ گئے جن میں سے کچھ کو خریدا گیا، کچھ پر بزور قبضہ کیا گیا اور کچھ ایسے تھے جس کے لوگوں نے دعوت سے متاثر ہو کر خود اپنے دروازے کھول دیے۔
قصہ مختصر چند برسوں کے اندر تقریباً تمام رودبار اور پڑوسی علاقوں میں حسن کی عملداری قائم ہو گئی۔
ان کے انہماک و ارتکاز کا یہ عالم تھا کہ وہ الموت میں آ جانے کے بعد 35 برس تک قلعے سے باہر نہیں گئے، بلکہ اپنے گھر سے بھی صرف دو بار باہر نکلے۔ تاریخ دان رشید الدین ہمدانی 'جامع التواریخ' میں لکھتے ہیں کہ 'وہ اپنی موت تک اپنے گھر ہی میں رہے جہاں وہ اپنا وقت مطالعے، دعوت تحریر کرنے، اپنی عملداری کا نظم و نسق چلانے میں گزارتے رہے۔'
سلجوق سلطان ملک شاہ نے اپنے دورافتادہ سرحدی علاقے چھن جانے کی خبر سن کر حسن الصباح کی سرکوبی کے لیے 1092ء میں ایک لشکر بھیجا جس نے الموت کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ قلعہ ناقابلِ تسخیر تھا، دوسری طرف آس پاس کے علاقوں سے حسن کے ماننے والوں نے کچوکے لگا لگا کر شاہی لشکر کو اس قدر زچ کیا کہ اسے چار ماہ کے بعد اپنا سا منھ لے کر لوٹتے ہی بنی۔
الموت کے محاصرے کے چند ماہ بعد 16/ اکتوبر 1192ء کو سلجوق سلطان کے وزیرِ اعظم اور حسن الصباح کے میبنہ ہم جماعت نظام الملک نہاوند ضلعے میں سفر کر رہے تھے کہ دیلمان کے علاقے کا ایک نوجوان، جس نے فقیروں کا بھیس بدلا ہوا تھا، ان کے قریب پہنچا اور اپنے چغے سے خنجر نکال کر ان پر وار کر دیا۔
رشید الدین ہمدانی کے مطابق حسن الصباح کو معلوم ہوا تھا کہ الموت پر سلجوقیوں کے حملے کے پیچھے دراصل نظام الملک کا ہاتھ تھا۔ انھوں نے ایک دن اپنے فدائیوں سے کہا: 'تم میں سے کون ہے جو اس ملک کو نظام الملک طوسی کے فتنے سے پاک کر سکے؟'
ایک نوجوان بو طاہر آرانی نامی نے ہاتھ بلند کیا اور بعد میں جا کر شیخ الجبال کے فرمان پر عمل کر ڈالا اور اس دوران خود بھی نظام الملک کے محافظوں کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہ حسن الصباح کی مہم کا پہلا 'خودکش' حملہ تھا۔
ظاہر ہے کہ سیاسی قتل حسن کی ایجاد نہیں تھا کہ یہ عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ۔ لیکن جس منظم طریقے سے اور جس وسیع پیمانے پر حسن نے اسے بطور آلہ استعمال کیا، اس کی وجہ سے ان کا نام اس سے منسلک ہو کر رہ گیا ہے۔
حسن کو معلوم تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ کبھی بھی سلجوقوں اور دوسرے طاقتور دشمن حکمرانوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ اس صورتِ حال میں انھوں نے وہ تکینک استعمال کی کہ بجائے ہزاروں کی تعداد میں فوجوں کا میدانِ جنگ میں دوبدو مقابلہ کیا جائے، بہتر یہی ہے کہ اپنے کسی جانثار فدائی کی تربیت کر کے اس کے ہاتھوں کسی حکمران، خطرناک وزیر، سپہ سالار یا مخالف مذہبی عالم کو قتل کروا دیا جائے۔
یہ طریقہ حیرت انگیز طور پر کامیاب ثابت ہوا۔ طوسی کے بعد حسن کے فدائین کے نشانے پر کئی حکمران، شہزادے، گورنر، جرنیل، اور علما بنے، اور ان کی دہشت نزدیک و دور تک پھیل گئی۔ کئی اہم شخصیات کسی بھی اجنبی سے ملنے سے کترانے لگے اور دوسرے اپنے لباس کے نیچے احتیاطاً زرۂ بکتر پہننے لگے۔
پچھلے چند عشروں کے دوران خودکش حملہ آوروں کی لہر کے بعد حسن الصباح کے نام کی بازگشت اکثر میڈیا میں سنی گئی ہے اور جدید دور کے خودکش حملہ آوروں کو قلعہ الموت کے فدائیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
کئی ناولوں، کہانیوں، نظموں کے علاوہ حسن الصباح کے فدائی اور ان کی جنت آج کی مشہور ویڈیو گیم 'اسیسنز کریڈ' میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اس کا شمار دنیا کی مقبول ترین گیمز میں ہوتا ہے اور اب تک اس کی دس کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
سنہ 2016ء میں اس ویڈیو گیم پر مبنی ایک فلم بنائی گئی جس نے 24/ کروڑ ڈالر سے زیادہ کا بزنس کیا۔
قلعۂ الموت میں حسن الصباح کی زندگی کا یہی وہ دور ہے جو بعد میں آنے والی صدیوں میں اساطیری حیثیت اختیار کر گیا۔ انھیں عام طور پر شیخ الجبال (Old Man of the Mountain) کہا جاتا ہے۔ مشہور ہے کہ انھوں نے اس قلعے میں ایک مصنوعی جنت قائم کر رکھی تھی جس کی ایک جھلک نوجوانوں کو دکھا کر انھیں سلاطین، وزرا، مذہبی رہنماؤں اور دوسری سرکردہ شخصیات کے قتل کے لیے آمادہ کیا جاتا تھا۔
مخالفین کی نظر میں یہ لوگ دہشت گرد تھے، لیکن خود حسن الصباح اور ان کے حامیوں کے نزدیک یہ فدائی تھے جنھیں مقصد کے حصول کی خاطر جانیں قربان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ قلعہ الموت میں ایسے تمام فدائیوں کے نام ایک قسم کے 'رول آف آنر' میں داخل کیے جاتے تھے اور انھیں شہید کا درجہ دیا جاتا تھا۔
یہ کہانی مشہور کرنے میں سب سے نمایاں کردار مارکو پولو نے ادا کیا۔ یہ وہ اطالوی سیاح تھا جس کا سفرنامہ دنیا کی مشہور ترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں مارکو پولو نے لکھا ہے:
'شیخ الجبال نے دو پہاڑوں کے درمیان واقع وادی میں ایک وسیع و عریض اور خوشنما باغ بنوایا ہے جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اس میں ہر قسم کے پھل پائے جاتے ہیں اور تصور سے باہر حسین محلات اور خیمے ہیں جن پر سونے کے ورق چڑھے ہیں اور ان میں نفیس تصاویر ہیں۔ اس باغ میں چھوٹی چھوٹی ندیاں ہیں جن میں شراب، دودھ، شہد اور پانی بہتا ہے، اور یہاں دنیا کی حسین ترین دوشیزائیں ہیں جو ہر طرح کے ساز بجاتی ہیں اور وہ حسین نغمے گاتی ہیں اور دل لبھانے والے رقص کرتی ہیں۔'
مارکو پولو مزید لکھتے ہیں کہ 12/ سے 20/ برس عمر کے نوجوانوں کو نشہ پلا کر اس باغ میں لایا جاتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنت میں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بعد جب انھیں بے ہوش کر کے اس فردوسِ بریں سے نکالا جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر کسی کو بھی قتل کرنے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
مارکو پولو کا سفرنامہ اپنے دور کا 'بیسٹ سیلر' ثابت ہوا اور اس کی وساطت سے یہ کہانیاں یورپ بھر میں پھیل گئیں، جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جاتی ہیں۔
اس دوران کسی نے یہ نہ سوچا کہ مارکو پولو جب 1272ء میں چین جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرے، تب حسن الصباح کو فوت ہوئے تقریباً ڈیڑھ صدی اور منگولوں کے ہاتھوں قلعۂ الموت کو تباہ ہوئے 15/ برس گزر چکے تھے۔
دوسری طرف کچھ جدید مورخین نے کہا ہے کہ مارکو پولو چین تو کجا، ترکی سے آگے تک گئے ہی نہیں تھے اور انھوں نے ساری کہانیاں استنبول میں بیٹھ کر سیاحوں اور ملاحوں سے سن سنا کر لکھ ڈالیں۔
الموت کے محاصرے کو رشید الدین ہمدانی نے اس طرح پیش کیا ہے. لیکن یہ افسانہ مارکو پولو کی ایجاد نہیں ہے۔ اس زمانے میں حسن الصباح اور قلعہ الموت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش میں تھیں، انھوں نے کہیں سے ایسی ہی کوئی اڑتی اڑتی خبر سن کر اسے تحریر کر دیا جس کے بعد یہ کہانی دنیا بھر میں 'وائرل' ہو گئی۔
ہم نے ہلاکو خان کے درباری مورخ عطا ملک جوینی کی 'تاریخِ جہاں گشا' کا ذکر کیا تھا۔ جوینی حسن الصباح اور اسماعیلیوں کے سخت دشمن تھے، اس لیے ان سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان سے کسی قسم کی رو رعایت برتیں گے۔
ہلاکو خان نے جب 1256ء میں قلعہ الموت فتح کیا تو جوینی ان کے ساتھ قلعے پہنچے۔ وہ بڑی تفصیل سے حسن الصباح کے حالاتِ زندگی، ان کے نظریات، الموت کی تاریخ، وہاں کے حکمرانوں، عمارات، طرزِ تعمیر اور کتب خانوں کا احوال بیان کرتے ہیں، لیکن ان کی کتاب میں کہیں بھی کسی جنت یا اس کے آثار کا ذکر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
ہم اس دور کے ایک اور مشہور تاریخ دان رشید الدین ہمدانی کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کی سنہ 1307ء میں مکمل ہونے والی کتاب 'جامع التواریخ' کو اس دور کے ایرانی تاریخ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے، مگر وہ بھی حسن الصباح اور قلعہ الموت کا تفصیلی ذکر کرنے کے باوجود وہاں کسی جنت کے وجود سے واقف نہیں ہیں۔
'شیخ الجبال' کے بارے میں کئی اور کہانیاں، روایتیں اور افسانے بھی گردش میں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دن کسی ملک کا سفیر الموت آیا ہوا تھا اور اس نے اپنے حکمران کی کیل کانٹے سے لیس فوجوں کی ہیبت کے بارے میں ڈینگیں مارنا شروع کر دیں۔ حسن الصباح نے کہا، 'ٹھیرو، میں تمھیں دکھاتا ہوں کہ اصل سپاہی کیا ہوتا ہے۔'
وہ اسی وقت سفیر کو قلعے کی چھت پر لے گئے اور وہاں تعینات دو محافظوں میں سے ایک سے کہا کہ 'چھت سے کود جاؤ،' اور دوسرے کو حکم دیا، 'اپنا خنجر نکال کر اپنے دل میں پیوست کر دو۔' کہا جاتا ہے کہ جب ایک محافظ بلا چوں و چرا قلعے کی بلند فصیل سے کود گیا اور دوسرے نے خنجر اپنے سینے میں گھونپ دیا تو سفیر پر وہی ہیبت طاری ہو گئی جو اس نے اپنی زبردست فوج کے ذکر سے حسن پر طاری کرنا چاہی تھی۔
یہ بھی مشہور ہے کہ انگریزی کا لفظ assassin یعنی اہم شخصیات کا قاتل بھی حسن الصباح ہی کے اس دور کی پیداوار ہے کہ کیوں کہ وہ اور بعد میں آنے والے ان کے جانشین فدائیوں کو حشیش (یعنی چرس) کے نشے میں دھت کروا کر قاتلانہ مہمات پر بھیجا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو حشیش کی نسبت سے حشاشین کہا جاتا تھا، جو مغرب میں پہنچ کر اسیسن بن گیا۔
تاریخ کی کسی کتاب ہم عصر میں اس بات کے شواہد نہیں ملتے کہ حسن الصباح یا ان کے پیروکار کسی قسم کی نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے تھے۔ معروف تاریخ دان برنارڈ لیوس کے مطابق اس دور کے اسماعیلیوں کے لیے لفظ 'حشاشیہ' (حشیش پینے والا) کی اصطلاح دراصل اس لیے استعمال ہوتی تھی کہ دوسروں کو ان کے خیالات بہکے بہکے لگتے تھے، نہ کہ خود حشیش پینے کے باعث۔
جب حسن الصباح نے اپنے دو پیروکاروں کو حکم دیا تو انھوں نے فوراً تعمیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو مار ڈالا.
حسن الصباح بےحد ذہین سیاسی رہنما اور منتظم تھے۔ ان کے سیاسی و نظریاتی مقاصد کے حصول کے لیے نظریہ بھی درکار تھا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے تنظیم بھی۔ انھوں نے یہ دونوں کام کر دکھائے۔
ان کی کٹر انصاف پسندی کی مثال یہ پیش کی جاتی ہے کہ جب قانون کا معاملہ آیا تو انھوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی نہیں بخشا، ایک کو شراب پینے کی پاداش میں اور دوسرے کو قتل کے جرم میں مروا ڈالا۔
حسن الصباح کا انتقال 12/ جون 1124ء کو ہوا۔ چونکہ ان کی نرینہ اولاد زندہ نہیں بچی تھی، اس لیے انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے ایک وفادار داعی کِیا بزرگ امید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا جنھوں نے ایک عرصہ قلعۂ الموت پر حکومت کی۔ یہ سلسلہ 1256ء تک چلتا رہا، تاوقتیکہ منگول حکمران ہلاکو خان نے الموت کو فتح کر کے اس نزاری اسماعیلی ریاست کا خاتمہ کر ڈالا۔
حسن الصباح کی زندگی اس لحاظ سے بےحد دلچسپ ہے کہ اس پر طرح طرح کے افسانوں کی دبیز دھند چھائی ہوئی ہے جس میں ان کی اصل شخصیت کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ زمانے کی یہ ستم ظریفی بھی دیکھیے کہ اس نے ان کا اصل نام بھی بدل کر حسن بن صباح مشہور ہو گیا، حالانکہ ان کے والد کا نام صباح نہیں بلکہ علی تھا۔
تاہم اساطیری دھند کے پردے چاک کر کے دیکھا جائے تو ایک ایسے شخص کی تصویر سامنے آتی ہے جو صاحب میدان بھی تھا اور صاحبِ کتاب بھی، جنھوں نے نہ صرف زبردست عسکری و سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ علمی و عقلی میدان میں بھی ان کا شمار اپنے دور کے اہم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اس کا اعتراف ان کے بدترین مخالفین نے بھی کیا ہے۔
ہم جماعت والی روایت کو نظر انداز بھی کر دیں تب بھی حسن الصباح اور عمر خیام میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں ایران میں ایک ہی عشرے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لگ بھگ ایک جیسی عمریں بھی پائیں اور دونوں نے کچھ عرصہ اصفہان میں گزارا۔ اس لیے یہ مزیدار امکان بہرحال موجود ہے کہ دونوں کی ملاقات رہی ہو، آخر کو ان کے کئی علمی مشاغل اور دلچسپیاں ایک جیسی تھیں۔ لیکن ان سے بھی گہری ایک اور مماثلت ہے۔ حسن الصباح، جو دینی عالم اور فوجی کمانڈر تھے، رہتی دنیا تک ایک ایسی مصنوعی جنت کے خالق کی حیثیت سے جانے جائیں گے جہاں شراب کی نہریں بہتی تھیں اور شباب ہر سو جلوہ افروز ہوتا تھا۔
دوسری طرف عمر خیام، جو دراصل ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات تھے، انھیں شراب و شباب اور باغات سے متعلق ایسی رباعیات کا خالق سمجھا جائے گا جو انھوں نے نہیں لکھیں۔
ایرانی محقق صادق ہدایت کی تحقیق کے مطابق خیام سے منسوب سینکڑوں رباعیوں میں سے صرف آٹھ یا دس ایسی ہیں جن کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیام کے قلم سے نکلی ہیں، باقی اللہ اللہ خیر سلا۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں ہم عصروں کے سر ایک ایک 'جنت' تھوپ دی گئی جس کا ان دونوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
بشکریہ..
https://www.bbc.com/urdu/world-44403178
Monday, October 10, 2022
The highest cricket ground in the world is in Chipursan Gojal Hunza.
The highest cricket ground in the world is at Chipursan Gojal in Hunza. The ground is located at an altitude of 10,500 feet above sea level. While the Cricket Ground of Pasan Nagar, which is said to be the highest ground, is located at an altitude of only 8,444 feet above sea level. It may be the second tallest stadium.
Subscribe to:
Posts (Atom)





